کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 386
صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور خاوند اس کی اجازت د ےدے تو اس میں حرج والی کوئی بات نہیں۔(واللہ اعلم)(شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ) کیا ایڈز کی شکار عورت حمل ساقط کراسکتی ہے؟ سوال۔کیا ایڈز کی شکار ماں کے لیے حمل ساقط کرانا جائز ہے؟ جواب۔ایڈز کی شکار حاملہ ماں کی بیماری بچے کو غالباً اس وقت منتقل ہوتی ہے جب وہ چار ماہ کا ہوجائے اور اس میں روح پھونک دی جائے یا پھر دوران ولادت یہ بیماری بچے میں منتقل ہوتی ہے تو اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے(کہ بیماری بچے میں روح پھونکے جانے کے بعد منتقل ہوتی ہے)اسقاط حمل جائز نہیں(کیونکہ اس صورت میں یہ ایک جان کا ناحق قتل شمار ہوگا)۔(شیخ محمد المنجد) حمل کی اقل مدت:۔ سوال۔میں ایک سال تک اپنی بیوی دے دور رہا پھر جب میں واپس لوٹا اور اس کے پاس آٹھ ماہ اور پچیس دن رہا تو اس نے ایک بچے کو جنم دیا۔اب مجھے ان پانچ دنوں کے متعلق شکایت ہے جو 9 ویں مہینے سے کم ہیں۔برائے مہربانی میری اس مسئلے میں رہنمائی کیجئے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ جواب۔نو ماہ سے قبل عورت کے بچہ جننے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو(اس پر کسی قسم کے)شک وشبہ کو واجب کرتی ہواور(یاد رکھو کہ)حمل کی کم از کم مدت چھ ما ہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ "اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے۔"[1] اور(دودھ چھڑانے کی مدت کے متعلق)اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: ﴿وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ﴾ "اور اس کی دودھ چھڑائی دو سال میں ہے۔"[2] [1] ۔[الاحقاف۔15] [2] ۔[لقمان۔14]