کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 380
زیادہ اس لائق تو آپ کے خاندان والے ہی ہیں کہ وہ بھی اس عظیم نعمت میں آپ کے ساتھ شامل ہوں۔حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: "میرے پاس قریش کے معاہدہ کی مدت کے دوران(یعنی صلح حدیبیہ کی مدت،جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ساتھ لڑائی نہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا)میری والدہ آئیں جو کہ ابھی مشرکہ تھیں۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بار ے میں دریافت کرتے ہوئے کہااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!میرے پاس میری والدہ آئیں ہیں اور وہ رغبت بھی رکھتی ہیں تو کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ہاں اپنی والدہ سے صلہ رحمی اور حسن سلوک کرو۔"[1] اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان ان کے ان لوگوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی کی اجازت دے رہے ہیں جو دین اسلام پر نہیں۔لیکن یہ یاد رہے کہ ان کے کہنے پر دوبارہ شرک کی طرف لوٹ جانا اور اسلام چھوڑ دینا قطعاً مباح نہیں بلکہ صرف دنیاوی اُمور میں ہی ان کے ساتھ بھلے برتاؤ کی اجازت ہے۔دین کے معاملے میں ان کی ماننے کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے اس کی ماں نے اسے دُکھ پر دُکھ اٹھا کرحمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شگر گزاری کر(تم سب کو)میری طرف ہی لوٹ کرآناہے۔اور اگر وہ دونوں تم پر اس بات کادباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شرک کر جس کاتجھے علم بھی نہ ہوتو ان کا کہنا نہ ماننا،ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرنا اور اس کی راہ پر چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو پھر تم سب کا لوٹنا میری طرف سے ہی ہے اور جو کچھ بھی تم کررہے ہو پھر میں تمھیں اس سے خبردار کروں گا۔"[2] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے خاندان و الوں کو د عوت دینے کااہتمام کیا تھا آپ ان کے پاس جاتے تھے اور انہیں دعوت دیتے تھے حتیٰ کہ آپ نے اپنے چچا ابو طالب کو بھی دعوت دی تھی جبکہ وہ موت کے آخری سانس لے رہاتھا اس لیے آپ کے لیے اپنے خاندان والوں کو ملنے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور یہ سب کچھ آپ اپنے خاوند کے ساتھ مل کرکریں۔انہیں تحفے وغیرہ دینے میں بھی کوئی حرج نہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ چیز ان کے لیے تالیف قلب کا باعث بنے اور اس بنا پر وہ اسلام کی طرف راغب ہوجائیں لیکن یہ یاد رہے کہ یہ تحفے ان کے تہواروں پرانہیں دینا اور اسی طرح ان موقعوں پر ان سے تحفے لینا کیونکہ ایسا کرنے میں باطل کام پر ان کی اعانت اور ان کے [1] ۔[بخاری(2620) کتاب الھبہ:باب الھدیۃ للمشرکین مسلم(1003) کتاب الزکاۃ باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین والزوج والاولاد والوالدین ولو کانوا مشرکین ابو داود(1668) کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ علی اھل الذمۃ ابن حبان(452) طیالسی(1643) احمد(26981)] [2] ۔[لقمان۔14۔15]