کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 379
اور وہی آپ کو اس قسم کے وسوسوں سے دو چار کررہاہے۔جن کی وجہ سے آپ دنیا وآخرت کی سعادت حاصل کرنے کافیصلہ کرنے میں متردد کا شکار ہیں۔ آپ کاقبول اسلام صرف اورصرف اللہ کےلیے ہے اور وہ مسلمان تو صرف اس میں ایک سبب کی حیثیت رکھتاہے۔اور اس وجہ سے آپ پرقطعاً کوئی عیب نہیں کہ فلاں شخص آپ کے قبول اسلام کا سبب بن رہاہے۔ہم آپ کے سامنے ایک ایسی عورت کاقصہ رکھتے ہیں جس کی دین اسلام میں کوئی نظیر نہیں ملتی یہ قصہ اس اُمت کے نوادرات میں شامل ہوتاہےاس واقعہ میں آپ مکمل طور پر غوروفکرکریں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ نے اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو شادی کاپیغام بھیجا تو انہوں نے جواب میں کہا،اے ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ!اللہ تعالیٰ کی قسم!تیرے جیسے مرد کو رد نہیں کیا جاسکتا،لیکن تو ایک کافر شخص ہے اور میں مسلمان عورت ہوں میرے لیے یہ حلال نہیں کہ میں تیرے ساتھ شادی کرسکوں۔لیکن اگر تو مسلمان ہوجائے تو میری شادی کا یہی مہر ہوگا،اس کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں کرتی۔اس پر ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمان ہوگئے اور ان کی شادی کا مہر بھی اسلام ہی تھا۔ ثابت رحمۃ اللہ علیہ جو کہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےشاگرد ہیں،کہتے ہیں کہ میں نے کسی بھی عورت کے بارے میں نہیں سنا کہ اس کامہر اُم سلیم کے مہر سے اچھا اور قیمتی ہو۔اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شادی ہوگئی اور ان سے ان کی اولاد بھی ہوئی۔[1] آپ یہ جان لیں کہ آپ کے دل کی تہوں تک ایمان بہت ہی جلد داخل ہوجائےگا اور یہ ساری کی ساری دنیا اس عظیم نعمت میں گزری ہوئی ایک گھڑی کے برابر بھی نہیں ہوسکتی،اسلام میں تو کچھ لوگ صرف مال حاصل کرنے کے لیے داخل ہوتے ہیں۔لیکن ان کے دلوں میں بھی اسلام کی محبت بہت ہی جلد داخل ہوجاتی ہے۔اور وہ اسلام سے محبت کرنے لگتے ہیں،اور پھر وہ اسی اسلام کی وجہ سے لڑائیاں لڑتے ہیں اور اس کے لیے اپنی سب سے قیمتی اشیاءحتیٰ کہ اپنی جان بھی قربان کردیتے ہیں۔لہذا آپ پر بھی یہ ضروری ہے کہ فوری طور پر بلاتاخیر اسلام قبول کرلیں اور یہ علم میں رکھیں کہ شیطان چاہتا ہے کہ وہ آپ کو اس سعادت اور دین فطرت سے دور رکھے۔آپ دین اسلام میں داخل ہوکر وہ دین اختیار کریں گی جو کہ آدم علیہ السلام،ابراہیم علیہ السلام،موسیٰ علیہ السلام،اور عیسیٰ علیہ السلام،سب کا دین تھا،یہ وہی دین ہے جو دین فطرت کہلاتا ہے۔اور اسی پر سب لوگوں کو پیدا کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلام آپ کو اپنے خاندان سے ملاقات کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اسلام تو آپ کو اس کی وصیت کرے گا تاکہ آپ ان کے قبول اسلام میں معاون ومددگار ثابت ہوسکیں اور پھر لوگوں میں سے سب سے [1] ۔[صحیح،صحیح نسائی،نسائی(3341) کتاب النکاح باب التزویج علی الاسلام]