کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 377
توفیق بخشی۔ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے آپ کے اندر یہ امید پیدا ہو گی کہ آپ کے خاوند کا معاملہ پہلے سے بہتر ہو رہا ہے اور ان اشاء اللہ وہ اپنے معاملات کو اور بہتر بنائے گا۔ آپ کے علم میں ہو نا چاہیے کہ ایک صالح اور نیک عورت اپنے خاوند کی عادات کو بدلنے کی استطاعت رکھتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اگر وہ حکمت و نرمی سے کام لے اور اس میں جلدبازی سے گریز کرے(ان شاء اللہ)بعض اوقات کچھ خاوند ایسے بھی ہو تے ہیں جو اپنی بیویوں کی جانب سے بار بار نصیحت پر ان سے نفرت کرنے لگتے ہیں خاص کر جب یہ نصیحت ان کی اولاد کی موجود گی میں کی جائے یا ممکن ہے کہ وہ اس میں اپنی توہین محسوس کرنے لگیں یا پھر اپنی شخصیت کی کمزوری دیکھیں۔اس لیے آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کا خیال رکھیں اور اسے نصیحت کرنے کے لیے کوئی مناسب سا وقت اختیار کریں اور اس میں تبدیلی لانے کی کوشش کرتی رہیں اور نصیحت کرتے وقت بھی آپ محبت اور نرمی کا انداز اختیار کریں تاکہ وہ اسے قبول کرے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے۔ ﴿ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾ "اپنے رب کے راستے کی طرف(لوگوں کو)حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے۔" اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ ﴿إِنَّ الرِّفْقَ لا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلا زَانَهُ،وَلا نُزِعَ مِنْ شَيْءٍ إِلا شَانَهُ﴾ "جس چیز میں بھی نرمی پائی جائے وہ اسے مزین اور خوبصورت بنادیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی ختم ہو جائے وہ اسے بدصورت بنادیتی ہے۔"[1] اور پھر خوند تو اس نرمی کا زیادہ حق دار ہے کیونکہ اس کا کچھ مقام و مرتبہ بھی ہے ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ آپ اپنی کوشش کو کامیاب کرنے کے لیے اس کے ساتھ کئی ایک اسلوب اختیار کریں مثلاً اسے پڑھنے کے لیے کچھ کتابیں اور سننے کے لیے کچھ اسلامی کیسٹیں بطور ہدیہ پیش کریں یا پھر یہ چیزیں لاکر اس کے قریب ایسی جگہ پر رکھیں جہاں سے وہ بآسانی حاصل کر سکے اور اسے پڑھنے اور سننے کا شوق پیدا ہو۔اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی دعاوالتجاء کرتی رہیں کہ وہ آپ کے حالات کی اصلاح فرمائے اور معرفت حق کے لیے آپ کے خاوند کا سینہ کھول دے اور اسے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)(شیخ محمد المنجد) [1] ۔[مسلم 2594کتاب البروالصلہ والاداب باب فضل الرفق ]