کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 375
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ "اور کافرعورتوں کی ناموس اپنے قبضے میں نہ رکھو۔"[1] "اور ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ "نہ تویہ(مسلمان)عورتیں ان کافروں)کے لیے حلال ہیں اور نہ ہی وہ(کافر)ان(مسلمان)عورتوں کے لیے حلال ہیں۔"[2] جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی دومشرکہ بیویوں کو طلاق دے دی تھی۔نیز امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلے پر اجماع نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ "اہل علم کے درمیان کافر عورتوں کی تحریم کے بارے کوئی اختلاف نہیں۔"[3] اللہ تعالیٰ نے کافر عورتوں میں سے اہل کتاب کی عورتوں کو مستثنیٰ قراردیتے ہوئے فرمایا: "پاکدامن مسلمان عورتیں اور تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی ان کی پاکدامن عورتیں بھی حلال ہیں۔"[4] اللہ تعالیٰ کے فرمان "محصنات"کا مطلب ہے عفت و عصمت والی عورتیں جو زناکاری والی نہ ہوں۔ سوال میں مذکورہ بیوی کے اہل کتاب میں نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان خاوند کے لیے اس کے ساتھ معاشرت جائز نہیں اسے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے اس لیے کہ اس کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا شرعی طور پر درست نہیں تعلقات قائم رکھنا زنا شمار ہو گا جو کہ حرام ہے۔ اور اگر بیوی اسلام قبول کر لے اور اس کا خاوند کافر ہی رہے خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہو یا کسی اور مذہب کا تو ان دونوں کا نکاح بیوی کے مسلمان ہونے کے ساتھ فسخ ہوجائے گا وہ اسلام قبول کرنے کی وجہ سے کافر خاوند پر حرام ہو جائے گی۔اور اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی۔جب تک خاوند بھی اسلام قبول نہ کرلے۔(شیخ محمد المنجد) اگر بیوی اسلام قبول کر کے ازدواجی کشیدگی میں مبتلا ہو جائے:۔ سوال۔میں ایک یورپین عورت ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھے صراط مستقیم کی ہدایت نصیب فرمائی اور میں نے الحمد اللہ [1] ۔[الممتحنہ :10] [2] ۔[الممتحنہ :10] [3] ۔[المغنیٰ لابن قدامۃ(503/7] [4] ۔[المائدۃ :5]