کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 374
﴿إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللّٰهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا﴾ "بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام و مرتبے کے لحاظ سے سب سے بدترین شخص وہ ہو گا جو بیوی سے جماع کرتا ہے اور وہ اس سے ہم بستری کرتی ہے پھر وہ شخص اس عورت(یعنی اپنی بیوی)کا راز(لوگوں میں ازراہ تفنن یا عمداً)پھیلاتا ہے۔"[1](شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ) کیا بیوی خاوند کو اکیلے غیر مسلم ملک میں پڑھائی کے لیے جانے دے؟ سوال۔خاوند تعلیم کے لیے کفار کے ملک میں جا نا چاہتا ہے اور بیوی کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ جائے یا مسلم ملک میں ہی رہے وہ وہاں صرف دنیادی نفع کی خاطر ہی جا نا چاہتا ہے تاکہ اس کا مقام زیادہ ہواور زیادہ تنخواہ حاصل کر سکے تو کیا وہ اس کے ساتھ جائے یا نہ جائے؟ جواب۔میرے خیال میں بیوی بھی اس کے ساتھ ہی جائے اس لیے کہ ایسا کرنا اس کے لیے فتنہ و فساد سے بچنے کا ذریعہ ہو گا اور عورت پر بھی کوئی ضرر نہیں جبکہ وہ مکمل پردہ اور اپنی حشمت کو برقرارکھے اور جو کچھ اس پر واجب ہے اس کی ادائیگی کرتی رہےلیکن خاوند کے اکیلے جانے میں خدشہ ہے کہ کہیں وہ فتنہ میں نہ پڑجائے اور اسی طرح بیوی بھی خاوند کے بغیر رہے گی تو تنگی محسوس کرے گی۔(واللہ اعلم)(شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ) اگر شوہر مسلمان ہو جائے تو غیر مسلم بیوی کے ساتھ معاشرت:۔ سوال۔جب شادی شدہ شخص اسلام قبول کر لے لیکن بیوی اسلام قبول نہ کرے اور وہ یہودی اور عیسائی بھی نہیں اور دونوں کے جنسی تعلقات بھی قائم ہیں تو کیا وہ اس وجہ سے کبیرہ گناہ کے مرتکب تو نہیں ہوئے؟اور اگر بیوی اسلام قبول کرے اور وہ آپس میں جنسی تعلقات قائم رکھیں تو کیا یہی حکم ان پر بھی لاگو ہو گا؟ جواب۔مسلمان شخص کے لیے غیر مسلمہ بیوی سے تعلق قائم رکھنا جائز نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ "اور مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ اسلام قبول نہیں کر لیتیں۔"[2] [1] ۔[مسلم 1437۔کتاب النکاح باب تحریم افشاء سرالمراۃ ابو داؤد 4870۔کتاب الادب باب فی نقل الحدیث احمد 69/3] [2] ۔[البقرۃ:221]