کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 373
کسی محرم کے ساتھ جانے کی شرط نہیں۔لیکن یہ یادرہے کہ سفر کے لیے محرم کی شرط بہر حال ہے۔یہ ضروری نہیں کہ شہر میں جہاں بھی عورت جائے مرد بھی ساتھ ہی جائے البتہ یہ ضرورہے کہ اگر تھوڑی مسافت میں بھی فتنہ کا ڈر ہو تو پھر وہ اکیلی نہ جائے بلکہ یا خاوند کو ساتھ لے کر جائے یا کسی محرم کو جواسے فتنہ و فساد سے بچاسکے۔ 6۔ کفار کے ممالک میں مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کی حفاظت کی بھر پور کوشش کریں مثلاً کچھ مسلمان مل کر ایک اسلامی فضا اور ماحول تیار ہوسکے اور ان کی حفاظت بھی ہو۔پھر اس طرح کرنے سے ایک مسلمان عورت کو اچھی اور نیک عورتوں کی صحبت بھی حاصل ہوگی۔جس سے وہ اپنے خاوند کی غیر موجودگی میں بھی اپنے آپ کو محفوظ پائے گی اور مستفید ہو سکے گی۔آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ اے ہمارے رب!ہماری بیویوں اور ہماری اولادوں کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا اور ہمیں متقی لوگوں کا امام بنا اور ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔(آمین یا رب العالمین)(شیخ محمد المنجد) گھر کی خاص باتیں لوگوں کو بتانا:۔ سوال۔بعض عورتوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے گھر اور ازدواجی زندگی سے متعلقہ خاص باتیں بھی اپنے رشتہ داروں اور سہیلیوں کو بتاتی ہیں حالانکہ ان میں کتنی ہی ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ جنہیں ظاہر کرنا شوہر کو ناپسند ہوتا ہے تو ایسی عورتوں کے متعلق کیاحکم ہے؟ جواب۔بلاشبہ کچھ عورتوں کی یہ عادت کہ اپنے گھراور ازدواجی زندگی کی باتیں اپنے اقارب اور سہیلیوں کو بتا نا ایک حرام کام ہے اور کسی بھی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے گھر کا راز یا شوہر کے ساتھ معاملات میں سے کچھ بھی کسی انسان کے سامنے ظاہر کرے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: ﴿فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ﴾ "فرمانبردار عورتیں خاوند کی عدم موجود گی میں بہ حفاظت الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں۔"[1] اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبردی ہے کہ [1] ۔[النساء :34]