کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 372
سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔مرد اپنے گھر کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا اور تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔[1] 2۔ یہ بھی یاد رہے کہ عورت بھی ایک گوشت اور خون سے پیدا انسان ہے پر فتن قسم کے لوگوں کو دیکھ کر یا ان کی باتیں سن کر وہ بھی متاثر ہو سکتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ خاوند اسے بھی اپنے ذہن میں رکھے اور غلط قسم کی اثر انداز ہونے والی اشیاء سے بچائے اسی طرح اسے شرو برائی والی جگہوں پر لے جانے سے بھی بچائے۔ 3۔ مسلمان خاوند پر ضروری ہے کہ وہ صرف دنیا کے لیے ہی زندگی بسر نہ کرے اور ایک گونگی وبے حس مشین کی طرح صرف کام میں ہی نہ جتارہے اگر چہ مال کی خواہش بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن جو چیز اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ زیادہ بہتراور باقی رہنے والی ہے لہٰذا اسے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ کم وقت والا کام کرے خواہ اسے اس میں اجرت کم ہی حاصل ہو جبکہ وہ کم اجرت اسے کافی ہواور اس کی ضروریات زندگی پوری کرتی ہو تاکہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے لیے بھی وقت نکال سکے اور ان کا خیال اور تربیت کر سکے۔ 4۔ اتنی دیر تک عورت کو گھر میں اکیلا رکھنا مناسب نہیں الاکہ عورت کے پاس خاوند کی عدم موجودگی میں کوئی ایسی چیز ہو جو اس کا بدلہ بن سکے مثلاً اسلامی تعلیمات کا حصول یا ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا جو خیر و بھلائی کے کاموں کی ترغیب دلاتے ہوں لیکن اس کے برعکس عورت کو گھر میں گیم وغیرہ کے لیے یا ٹیلی ویژن دیکھنے کے لیے یا غلط قسم کے پڑسیوں سے میل ملاقات کے لیے یا پھر کسی اور بری صحبت میں چھوڑ دینا بہت ہی بری بات اور ناجائز عمل ہے۔اس طرح کے کام کرنے والے لوگ اپنے رب سے ملاقات سے پہلے ہی اس کا انجام دیکھ لیتے ہیں۔ 5۔ عورت کاگھر سے خاوند یا کسی محرم کے بغیر نکلنے کے متعلق گزارش ہے کہ اگر راستہ پر امن ہو اور جہاں وہ جارہی ہے وہاں کسی قسم کا خطرہ نہ ہو اور عورت بھی قابل اعتماد ہو کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کرے گی۔تو پھر اس کے خاوند یا [1] ۔[بخاری 893۔کتاب الجمعہ باب الجمعہ فی القری والمدن مسلم 1829۔کتاب الامارۃ باب فضیلۃ الامیر العادل و عقوبۃ الجائز والحث علی الرفق بالرعیہ ترمذی 1705کتاب الجہاد باب ماجاء فی الامام نسائی فی السنن الکبری 9173/5۔عبدالرزاق 20649الادب المفرد للبخاری 214 ،بیہقی 287/6]