کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 363
ساس سسر اور دیور کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔تو کیا میرا یہ مطالبہ گناہ ہے؟اور اسلام اس معاملے میں کیا کہتا ہے مجھے جتنی جلدی ہو سکے جواب ارسال کریں میں برادشت نہیں کر سکتی اور یہ چاہتی ہوں کہ خاوند میرے ساتھ ایک سعادت کی زندگی گزارے۔ جواب۔پہلی بات تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوند کے غیر محرم رشتہ داروں کو بیوی کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ۔ "عورتوں کے پاس جانے سےبچو۔ایک انصاری شخص کہنے لگا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ ذراخاوند کے عزیز و اقارب کے بارے میں تو بتائیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خاوند کے عزیز و اقارب تو موت ہیں۔"[1] لہٰذا کسی بھی دیورکے ساتھ خلوت جائز نہیں ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اتنے چھوٹے ہوں جن سے کوئی خطرہ نہ ہو۔دوسری بات یہ ہے کہ خاوند پر واجب ہے کہ وہ بیوی کے لیے ایسی رہائش مہیا کرے جو اسے لوگوں کی آنکھوں بارش اور گرمی و سردی وغیرہ سے بچائے اور وہ اس میں مستقل طریقے سے رہے یہ بھی یاد رہے کہ اگر عقد نکاح کے وقت بیوی نے اس سے بڑی رہائش کی شرط رکھی تو اسے پورا کرنا ضروری ہو گا اور خاوند کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ اپنی بیوی پر اپنے کسی دیور کے ساتھ مل کر کھا نا لازم کرے۔خاوند کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے حسب استطاعت رہائش تیار کرے جو عرف و معاشرے کی عادات اور معیار کے مطابق ہو۔ حافظ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہےکہ: خاوند ضروری ہے کہ استطاعت کے مطابق اپنی بیوی کو رہائش دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے"تم انہیں اپنی طاقت کے مطابق وہاں رہائش دو جہاں تم خودرہے ہو۔"[2] امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: خاوند پر بیوی کے لیے رہائش کا انتظام کرنا واجب ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے "تم انہیں اپنی طاقت کے مطابق وہاں رہائش دو جہاں تم خود رہتے ہو۔"[3] [1] ۔[مسلم 2172۔کتاب السلام باب تحریم الخلوۃ بالاجنیۃوالدخول علیہابخاری 5232۔کتاب النکاح باب لایخلون رجل بامراۃ الاذو محرم ترمذی 1171 کتاب الرضاع باب ماجاء فی کراھیہ الدخول علی المغیات احمد 17352۔ابن حبان 5588طبرانی کبیر 762/17۔ شرح السنۃ للبغوی 2252۔بیہقی 90/7] [2] ۔[الطلاق:6] [3] ۔[الطلاق:6]