کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 361
﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ "بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بلاحساب پورا پورا دیا جا تا ہے۔"[1] اور سوال کا جواب یہ ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر سے خود ہی الگ کردے تو پھر عورت پر کوئی گناہ نہیں لیکن اگر عورت کو بستر سے دور کرنے کا سبب اس کی اپنی ہی کوئی زیادتی ہو تو اس صورت میں اس پر واجب ہے کہ وہ اس سے معافی مانگے اور اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔(شیخ ابن عثیمین) کیا بہو پر سسر کی خدمت واجب ہے؟ سوال۔میرے سسر ہمارے پاس رہنے کے لیے آئے ہیں اور وہ مریض ہیں اس سے بہت سی مشکلات پیدا ہورہی ہیں سسر کے بارے میں میرے کیا واجبات ہیں؟ جواب۔عورت پر اپنے سسر یا ساس یا پھر خاوند کے کسی اور رشتہ دار کی خدمت کرنا واجب نہیں بلکہ اگر گھر میں ساس اور سسر ہوں تو ان کی خدمت کرنا اچھی عادت ہے اور خدمت نہ کرنا خلاف مردئت شمار ہو گا لیکن بہو پر اسے لازم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ بیوی پر ان کی خدمت کرنا لازم قراردے۔ میں کہتا ہوں کہ عورت کو صبارہ ہونا چاہیے اور اسے ساس اور سسر کی خدمت کرنا چاہیے اور اسے یہ علم ہونا چاہیے کہ ان کی خدمت میں اس کا کوئی نقصان نہیں بلکہ اس سے اس کی عزت اور شرف میں ہی اضافہ ہو گا اور اس سے خاوند کے دل میں بھی اس کی محبت بڑھ جائے گی۔اللہ تعالیٰ ہی تو فیق بخشنے والا ہے۔"شیخ ابن عثیمین) کیا بہو پر ساس کی اطاعت واجب ہے؟ سوال۔میری ساس اور سسر ہماری خاص زندگی میں دخل اندازی کرتے رہتے ہیں اور خاص کر ساس اور نندیں(یعنی خاوند کی بہنیں)تو بہت زیادہ دخل اندازی کرتی ہیں میرا خاوند بہت ہی اچھا ہے لیکن اس کی شخصیت میں مطلقاً استقلال نہیں۔میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ سا س اور نندوں کے حقوق کے بارے میں بتائیں کہ مجھ پر ان کے کیا حقوق ہیں؟ [1] ۔[الزمر:10]