کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 360
طرف سے مقرر کرلو۔اگر یہ دونوں صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ دونوں میں ملاپ کرادے گا۔"[1](شیخ محمد المنجد) بیوی کا شوہر کے حکم سے اس کے بستر سے الگ رہنا:۔ سوال۔بہت زیادہ ہم سنتے ہیں کہ اگر عورت شوہر کے بستر سے الگ رہے تو ساری رات فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں لیکن جب شوہر خود عورت کو اپنے کمرے سے نکال دے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ سونے لگ جائے تو کیا وہ گناہگار ہوگی؟ جواب۔اس سوال کا جواب دینے سے پہلے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ زوجین میں سے ہر ایک پر واجب ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے ساتھ حسن معاشرت اختیارکرے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ: "اوران کے ساتھ حسن معاشرت اختیارکرو۔" [2] اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ: "اوران عورتوں کے لیے بھی(مردوں پر)ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان عورتوں پر(مردوں کے ہیں)اچھے طریقے سےالبتہ مردوں پر فضیلت حاصل ہے۔"[3] لہٰذا زوجین میں سے ہر ایک پر واجب ہے کہ وہ دوسرے کے ساتھ ایسی بودوباش اختیار کرے جس سے دونوں کے درمیان محبت و مودت بڑھے کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ: ﴿وَمِنْ آَيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾ "اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمھاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور اس نے تمھارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی۔"[4] اسی پاکیزہ و قابل تعریف زندگی کے ذریعے ہی دونوں میاں بیوی اضطراب و پریشانی سے دورہوکرسعادت کی زندگی گزارسکتے ہیں اوردونوں کو ایک دوسرے کی ناگوارباتوں پر صبر کرنا چاہیے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ دونوں اپنے اپنے واجبات اداکریں اور اپنے ساتھی پر زیادتی سے گریز کریں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ [1] ۔[النساء:35] [2] ۔[النساء :19] [3] ۔[البقرۃ :228] [4] ۔[الروم :21]