کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 358
﴿مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ﴾ "اللہ تعالیٰ نے جسے بھی مسلمانوں کی کسی رعایا پر حاکم بنایا پھر وہ اس حال میں مرا کہ وہ ان کو دھوکہ دینے والا تھا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے۔"[1] لہٰذا آدمی کی اپنی بیوی کے بارے میں عظیم مسئولیت و ذمہ داری ہے جس کے متعلق اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور اس سے دعا بھی کرتے رہنا چاہیے کہ وہ اس کے گھر والوں کو ہدایت کی توفیق دے اور بیوی کے متعلق گزارش ہے کہ وہ بھی اسی طرح اپنے اعمال کی ذمہ دارہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: "عورتیں مردوں کی طرح ہی ہیں۔"[2] قرآن میں ایک مقام پر ہے کہ: "اور وہ سب کے سب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس اکیلے حاضر ہونے والے ہیں۔"[3] معلوم ہوا کہ مسئولیت انفرادی ہے اور ہر شخص سے اس کے اعمال کا محاسبہ ہو گا اور وہ نوجوان جو بالغ ہوچکا ہے اگر وہ اپنے والد کی غلط تربیت کی بنا پرگمراہ ہو چکاتھا لیکن پھر بعد میں اس تک اسلام پہنچ گیا تو اس کے پاس اب کوئی عذر باقی نہیں رہے گا۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عقل عطا فرمائی ہے اور اسے اس عقل کی بنا پر مکلف بنایا ہے اگرچہ اس کے والد کا بھی تربیت میں کمی کی وجہ سے محاسبہ ہو گا۔اسی طرح بیوی کا بھی محاسبہ ہو گا۔ لہٰذا بیوی پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اس کی نعمت کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے اسلام کی نعمت سے شرفیاب فرمایا ہے۔ اور ہمارے بھائی آپ پر واجب ہے کہ آپ سچی توبہ کریں کیونکہ گناہ جتنا بھی بڑا ہو جب اس سے تمام شرائط کے ساتھ توبہ کر لی جائے تو اللہ تعالیٰ وہ گناہ معاف فرمادیتے ہیں پھر آپ اپنی بیوی کی تربیت کی طرف پلٹیں اور اس میں آسان اسلوب اختیار کرتے ہوئے نرمی و حکمت سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ سے توفیق و مدد طلب کریں کہ وہ آپ کی بیوی کی تربیت میں آپ کی مدد فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہی توفیق بخشنے والا ہے۔(شیخ محمد المنجد) [1] ۔[بخاری 7151کتاب الاحکام باب من استرعی رعبہ قلم ینصح مسلم 142۔کتاب الایمان باب استحقاق الوالی الغاش لرعیۃالنار] [2] ۔[صحیح ترمذی 35/1] [3] ۔[مریم:95]