کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 353
﴿لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق﴾ "خالق کی نافرمانی(والے کام)میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔[1] اس لیے اگر خاوند بیوی کو کوئی حرام کام کرنے کا کہے اور نہ کرنے پر طلاق کی دھمکی دے تو بیوی اپنے خاوند کو اچھے انداز سے سمجھائے اور اسے اس حرام کام سے خوف دلائے اور دلائل کے ساتھ بیان کرے کہ ایسا کرنا حرام ہے سائلہ بہن نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ حرام کام کیا ہے اور اس کی حرمت کا درجہ کیا ہے بہتر تو یہ تھا کہ اس کی وضاحت کی جاتی تاکہ جواب بھی واضح ہو تا لیکن اصل یہی ہے۔کہ حرام کام میں اطاعت نہیں۔لہٰذا اس عورت کو چاہیے کہ وہ حرام کام سے رک جائے اور اس میں خاوند کی اطاعت نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت خاوند کی اطاعت پر مقدم ہے اس بنا پر ہم کہیں گے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے۔اور اپنے خاوند کو سمجھانے کوشش کرے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تعالیٰ سے دعا والتجاء کرے کہ وہ اس کے خاوند کو ہدایت سے نوازے اور اس طرح کے برےکاموں سے اس کادل پھیرےدے۔یہ بھی بہترہے کہ بیوی اپنے خاوند کے لیے کوئی اچھی سی کتاب یا پھر سننے کے لیے کیسٹ وغیرہ خریدے تاکہ وہ اس سے مستفید ہو سکے اور اللہ تعالیٰ کے بعد وہ اپنے کسی عزیز رشتہ دار یا امام مسجد وغیرہ سے بھی مدد طلب کر سکتی ہے کہ وہ اس کے خاوند کو سمجھا ئےاور اسے اللہ تعالیٰ کا خوف دلائے۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگوہیں کہ وہ آپ کے شوہرکو ہدایت سے نوازے۔(شیخ دکتورخالد) اگر خاوند ساتھ بیٹھ کر ٹیلی ویژن دیکھنے کا مطالبہ کرے؟ سوال۔میراخاوند میری کثرت تلاوت سے پریشان ہوتا ہے اور یہ بھی کہتا ہےکہ میں اسے اکیلاچھوڑ دیتی ہوں تو اگر میں خاوند کی وجہ سے تلاوت قرآن چھوڑ دوں توکیا میں گناہگارہوں گی۔اس لیے کہ وہ یہ چاہتا ہے کہ میں اس کے ساتھ بیٹھ کر ٹیلی ویژن دیکھوں اور کیا جب میں تلاوت چھوڑکر رمضان کے دن میں یا رات میں اس کے ساتھ بیٹھ کر ٹیلی ویژن دیکھوں گی تو گناہگارہوں گی؟ آپ کے علم میں ہو نا چاہیے کہ میں تلاوت اس وقت کرتی ہوں جب وہ سورہا ہویا پھر کسی کام میں مشغول ہو میں بہت زیادہ تو نہیں پڑھتی لیکن آہستہ پڑھتی ہوں کیونکہ میں تجوید سیکھ رہی ہوں۔ [1] ۔[صحیح ،صحیح الجامع الصغیر7520۔المشکاۃ 3696]