کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 350
پردے میں ہو ں اور کسی فتنے کا ڈر بھی نہ ہو۔ان شروط کے باوجود افضل و بہتر دل کو صاف رکھنے اور شک و شبہ سے بچنے کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ آپ کے کمرے میں داخل نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ "اور جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو تمھارے اور ان کے دلوں کے لیے کامل پاکیزگی یہی ہے۔"[1] اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ "تم عورتوں کے پاس جانے سے بچو ایک انصاری آدمی کہنے لگا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ دیور کے بارے میں تو بتائیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیور تو موت ہے۔"[2] امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "دیور تو موت ہے" کا معنی ہے دوسروں سے زیادہ اس سے خدشہ اور فتنے میں مبتلا ہونے کی توقع ہے اس لیے کہ عورت کے پاس جانا اور اس سے خلوت کرنا کے لیے بآسانی ممکن ہے۔اور اس کے گھر میں ہونے کی وجہ سے اس پر کوئی انکار بھی نہیں کرتا،لیکن اگر کوئی اجنبی ہوتو اس کے لیے یہ ممکن نہیں۔اور "حمو"سے مراد خاوند کے آباؤ اجداد اولاد کے علاوہ دوسرے رشتہ دار ہیں مثلاً بھائی بھتیجے چچا اور چچا کے بیٹے وغیرہ ان سب کے لیے یہ جائز نہیں کہ آپ کو ان کاموں پر(جو آپ نے ذکر کیے ہیں)مجبور کریں۔اور ان کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ آپ اور آپ کے خاوند کے خصوصی معاملات میں داخل اندازی کریں لیکن اگر انھوں نے آپ کے خاوند کو اس پر راضی کر لیا کہ آپ جائز قسم کی راحت کے لیے بھی گھرسے نہ نکلیں اور خاوند آپ کو گھر میں ہی رہنے کا کہے تو پھر آپ اپنے خاوند کی اطاعت کریں اور صبر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سےثواب کی نیت رکھیں۔اپنے میکے جانے کے لیے بھی آپ پر لازم نہیں کہ آپ ان میں سے کسی سے اجازت طلب کریں اور نہ ہی ان کا یہ حق ہےبلکہ آپ پر واجب یہ ہے کہ اپنے خاوند سے اجازت لیں اگر وہ اجازت دے دیتا ہے تو پھر اس کے علاوہ کسی سے بھی اجازت لینی واجب نہیں اسی طرح وہ آپ دونوں کی ازدواجی زندگی کی تفصیلات کی معرفت کا بھی کوئی حق نہیں رکھتے۔ ساس اور سسر کی خدمت کرنا آپ پر واجب تو نہیں لیکن اگر آپ ان کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کے [1] ۔[الاحزاب:53] [2] ۔[بخاری 5232۔کتاب النکاح باب لایخلون رجل یا مراۃ الاذومحرم مسلم 2172۔کتاب السلام باب تحریم الخوۃ بالاجنیہ والدخول علیہا ]