کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 348
اور ان عورتوں کے ساتھ اچھے انداز میں بودوباش اختیار کرو۔"[1] دوسری بات یہ ہے کہ خاوند پر ضروری ہے کہ وہ ایسی کسی بھی چیز کو اپنی زندگی میں داخل نہ ہونے دے جو اس کے اور اس کے اہل وعیال کی ضروریات میں دخل انداز ثابت ہو مثلاً کوئی ایسا مسلسل عمل یا کوئی ایسی دوستی جو اس کا وقت ضائع کرے یا پھر کوئی قریبی رشتہ دار جو اس کا وقت لے اور اس کے گھریلو معاملات میں بھی دخل اندازی کرے۔مسلمان اس دور میں تو اتنا وقت بھی نہیں نکال سکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے واجب کردہ اعمال کو ہی بجا لائے تو پھر اس پر یہ کس طرح آسان ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اس وقت کو کسی دوسرے کے ساتھ بلا حساب ہی ضائع کرتا پھرے۔ تیسری بات یہ ہے کہ بیوی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند اور اس کے گھر والوں میں تفریق نہ ڈالے اور یہ بھی اس کے لائق نہیں کہ وہ ان کے بار بار آنے یا پھر خاوند سے ملنے کے لیے آنے پر جھگڑا کھڑا کردے،لیکن اگر یہ عمل خاوند کے واجبات پر اثر انداز ہوتو پھر ایسا ہوسکتا ہے اور والد کو بھی چاہیے کہ وہ ا پنی اولاد پر کسی کو بھی ترجیح نہ دے نہ تو اپنے بھائی کو اور نہ ہی کسی او قریبی کو۔ چوتھی بات یہ ہے کہ ہم اپنی بہن کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ نرم رویہ رکھے اور بھائی کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں اس کے سامنے جھگڑا نہ کرے اور اپنی اولادکے ذہنوں میں بھی اسکے بارے میں بغض اور ناپسندیدگی پیدا نہ کرے اور جب خاوند میں کوئی نقص د یکھے کہ وہ شرعی واجبات میں کوتاہی سے کام ل رہا ہے تو اسے احسن انداز میں سمجھائے اور اس میں کسی بھی قسم کی شدت نہیں ہونی چاہیے اور اگر ضرورت پیش آئے تو اس میں بھی اشاروں کنایوں کے ساتھ ہی بات کرے ناکہ صراحت کے ساتھ۔ہماسرے خیال میں ایسے حالات میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب خاوند اپنی بیوی کو اپنے دیگر گھر والوں کے ساتھ اچھے تعلقات میں دیکھتا ہے تواپنی بیوی سے بھی احسن انداز میں پیش آتا ہے۔(واللہ اعلم)(شیخ محمد المنجد) شوہر کے رشتہ داروں کی بیوی کی زندگی میں مداخلت حد:۔ سوال۔اسلام میں خاوند کے بہن بھائیوں کے حقوق ہیں؟کیا ساس اور سسر کی طرح خاوند کے بھائیوں کا بھی اطاعت کا حق ہے؟کیا انہیں میرے کمرے میں یہ حق حاصل ہے کہ وہ بغیر اجازت داخل ہوں؟میں کس حد تک [1] ۔[النساء۔19۔]