کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 341
اور ایک دو سری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر میں کسی کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ ا پنے خاوند کو سجدہ کرے۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔جب تک عورت اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی وہ اپنے رب کےحقوق بھی ادا نہیں کرسکتی اور اگر خاوند اس سے اس کانفس(ہم بستری وغیرہ کے لیے)مانگے اور وہ(سفر کے لیے)کجاوے پر بھی بیٹھ چکی ہوتو اسے انکار نہیں کرنا چاہیے۔"[1] اس حدیث میں بیوی کو شوہر کی اطاعت پر اُبھارا گیا ہے کہ اگر وہ ایسی حالت میں بھی ہوتب بھی اطاعت کرے تو(آپ خود اندازہ لگائیں کہ)عام حالات میں کس طرح کی اطاعت ہونی چاہیے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "انسان کے لیے کسی بھی انسان کو سجدہ کرنا صحیح نہیں اور اگر انسان کے لیےکسی دوسرے انسان کے سامنے سجدہ کرنا صحیح ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرتی،ا س لیے کہ اس کاعورت پر بہت عظیم حق ہے اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگراس(شوہر)کے پاؤں سے لے کر سر تک زخم پیپ سے بھرے ہوں اور پیپ رس رہی ہو اور بیوی اس کے پاس آئے اوراسے چاٹ لے پھربھی اس کاحق ادا نہیں کرسکتی۔"[2] بیوی جب اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے شوہر کی اطاعت کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس پر اجر عظیم عطا فرماتےہیں۔اسی طرح مرد پر بھی واجب ہے کہ وہ بیوی کے معاملے میں صبر وتحمل سے کام لے اور اس سے حسن اخلاق کے ساتھ پیش آئےاور اسے شرعی حقوق سکھائے۔ اور آپ کی بیوی کا یہ کہنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ گفتگو کیا کرتی تھیں۔بالکل صحیح نہیں۔وہ تو ایسی باتوں سے یکسر کنارہ کش تھیں۔ان سے تو اگر کوئی ایسی و یسی بات ہوجاتی اور پھر انھیں اس سے روک دیاجاتاتو وہ پھر وہ زندگی بھر کبھی بھی اس کی طرف دوبارہ نہ پلٹیں۔نہ جانے کس طرح یہ بیوی امہات المومنین رضوان اللہ عنھن اجمعین کی حسنات اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسن معاشرت سے غافل رہ گئی ہے یاد رہے کہ اس بیوی ن اس معاملے میں ازواج مطہرات کی اقتداء نہیں کی بلکہ ان کی بعض ان غلطیوں سے دلیل پکڑنے کی کوشش کی ہے جس کی اللہ [1] ۔[صحیح ۔صحیح ابن ماجہ(1533) کتاب النکاح باب حق الزوج علی المراۃ صحیح الترغیب (1938)ابن ماجہ(1853)] [2] ۔ [صحیح الجامع الصغیر(7725) مسند احمد(12153)]