کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 338
نگاہ سے دیکھتاہے سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ آپ کے خاوند کو نصیحت کریں اور اسے سمجھائیں کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کے ساتھ پیش آئے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان پر عمل کرسکے۔ "اور ان عورتوں کے ساتھ اچھے انداز میں بودوباش اختیارکرو۔"[1] ایک دوسرےمقام پر یوں فرمایا: "اور ان عورتوں کے ویسے بھی حق ہیں جیسے ان مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ،ہاں مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔"[2] اللہ تعالیٰ آپ دونوں کے حالات کی اصلاح فرمائے اور آپ کے خاوند کو ہدایت نصیب فرما کر صحیح راستے اور خیر بھلائی کی طرف لائے۔اللہ تعالیٰ بڑی سخاوت والا ہے۔(شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ) کیا بیوی پر لعنت کرنے کی وجہ سے وہ شوہر پر حرام ہوجاتی ہے؟ سوال۔جان بوجھ کر شوہر کا بیوی پر لعنت کرنا شریعت کی نگاہ میں کیسا ہے؟اور کیا لعنت کی وجہ سے وہ شوہر پرحرام ہوجاتی ہے یا کیا یہ طلاق کے حکم میں ہے؟اور اس کا کیا کفارہ ہے؟ جواب۔شوہر کا بیوی پر لعنت کرنا ایک برا کام اور ناجائز ہے بلکہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿لعن المؤمن كقتله﴾ "مومن کو لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔"[3] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ﴿سِبَابُ الْمُسْلِم فُسُوقٌ وَقِتالُهُ كُفْرٌ﴾ "مسلمان کو گالی دینا نافرمانی ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔" [4] [1] ۔[النساء۔19] [2] ۔[البقرۃ۔228] [3] ۔[صحیح ۔صحیح الجامع الصغیر(710)السلسلۃ الصحیحہ(3385) الادب المفرد(763)] [4] ۔[صحیح :صحیح الجامع الصغیر(3595) السلسلۃ الصحیحۃ(3947) صحیح الترغیب(2779) کتاب الادب وغیرہ باب الترھیب من السباب واللعن ابن ماجہ(3939) کتاب الفتن:باب سِبَابُ الْمُسْلِم فُسُوقٌ وَقِتالُهُ كُفْرٌ نسائی (4105) کتاب التحریم الدم،باب قتال المسلم)]