کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 333
میں امام سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی ثابت کیا ہے کہ اگر یہ حدیث ثابت ہوتو اس کامطلب یہی ہوگا کہ عورت کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے خاوند سے اجازت لے لیکن اس پر واجب یا شرط نہیں۔لہذا اگرعورت اپنے ذاتی مال میں تصرف کرتے وقت بھی اپنے شوہر سے اجازت لے لے یا مشورہ کرلے یا اسے بتادے تو یہ حسن معاشرت کا ایک حصہ خاوند کو راضی کرنے کا ایک طریقہ اور مذکورہ بالا احادیث کی وجہ سے مستحب ضرور ہے۔(واللہ اعلم)(شیخ محمدالمنجد) اگر گھر میں خرچ عورت کرتی ہوتو بھی وہ گھر کی حکمران نہیں:۔ سوال۔جب گھر کی آمدنی میں مرد مصدر رئیسی نہ ہوتو کیا وہ خاندان کا سربراہ شمار ہوگا؟ جواب۔حکمرانی ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے مرد کے ساتھ خاص کی ہے۔اس کامقصد یہ ہے کہ مرد عورت کا امین ہے اور اس کے معاملات کی دیکھ بھال کرتاہے اور اس کی حالت سدھارتا ہے اسے اچھے کام کا حکم دیتاہے اور اسے برے کام سے روکتا ہے جس طرح کی ایک حکمران اپنی رعایا کے ساتھ کرتاہے۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَيهِنَّ دَرَجَةٌ﴾ "اور مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔" اور ایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا: ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ "بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾ "مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔"[1] حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: مرادیہ ہے کہ مرد عورت پر قیم یعنی سربراہ ہے وہ اس کارئیس بڑا اور اس پر حاکم ہے اور جب وہ ٹیڑھی ہو جائے تو اسے ادب سکھانے والا ہے۔ علامہ شقیطی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس میں یہ اشارہ ہے کہ مرد عورت سے افضل ہے اس لیے کہ مرد ہونا شرف وکمال ہے اور نسوانیت طبعی اور پیدائشی طور پر وہی نقص ہے اور لگتا ہے کہ مخلوق اس پر متفق ہے۔اس لیے کہ عورت کے لیے زیور اور زینت کی اشیاء [1] ۔[النساء۔34]