کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 331
سکتے ہو اور یہ بھی بہت ہے۔اگر تم اپنے وارثوں کو ا پنے پیچھے مالدار چھوڑو تو اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔"[1] 2۔خاوند کو مطلق طور پر بیوی کو اس کے مال میں تصرف سے روکنے کا حق حاصل ہے خواہ وہ کم ہو یا زیادہ لیکن صرف خراب اور ضائع ہونے والی اشیاء میں یہ حق نہیں۔یہ قول لیث بن سعد رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔[2] 3۔عورت کو ا پنے مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کرنے کا حق نہیں۔یہ طاوس رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ طاوس رحمۃ اللہ علیہ نے عمرو بن شعیب والی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ: "عورت کے لیے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے مال کا عطیہ دیناجائز نہیں۔"[3] 4۔عورت کو اپنےمال میں مطلقاً تصرف کاحق حاصل ہے۔خواہ وہ عوض کے ساتھ ہو یا بغیر عوض کے اور خواہ وہ سارے مال میں ہو یا کچھ میں۔یہ قول جمہور علمائے کرام کا ہے،جن میں شافعیہ،احناف،حنابلہ کا ایک مذہب اور امام ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ شامل ہیں۔[4] کتاب وسنت اور غوروفکر کے لحاظ سے سب سے زیادہ عدل والا اور وہ صحیح قول یہی ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کافرمان ہے: ﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا﴾ "اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو،ہاں اگر وہ خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہوکر کھالو۔"[5] اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خاوند کے لیے بیوی کے صرف اسی مال کو مباح قرار دیاہے جسے دینے پر وہ خود راضی ہو۔ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ [1] ۔[بخاری(2742) کتاب الوصایا باب ان یترک ورئتہ اغنیاء خیر من ان یتکففو الناس ،مسلم(1628) کتاب الوصیۃ باب الوصیۃ بالثلث ابو داود(2864) کتاب الوصایا باب ماجاء فی مالا یجوز للموصی فی مالہ ترمذی(2116)کتاب الوصایا باب ماجاء فی الوصیۃ بالثلث اب ماجہ(2708)] [2] ۔[نیل الاوطار(6/22)] [3] ۔[فتح الباری(5/218)] [4] ۔[المغنی لابن قدامۃ(4/513) الانصاف(5/342) شرح معانی الآثار(4/354) فتح الباری(5/318) نیل الاوطار(6/22)] [5] ۔[النساء۔4]