کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 330
فرمایا،عورت کو اپنے مال میں سے خاوند کی اجازت کے بغیر کچھ بھی(تصرف)جائز نہیں تو کیا تو نے کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اجازت لی ہے۔اس نے کہا،جی ہاں۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا ایک آدھی بھیجا تاکہ وہ ان سے پوچھے کہ کیا تو نے خیرہ کو اپنا زیور صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے۔تو انہوں نے جواب میں کہا،جی ہاں،میں نے اجازت دی ہے۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کرلیا۔[1] 2۔عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی بھی عورت کے لیے خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں۔[2] 3۔ اور ایک روایت میں ہے کہ: "جب خاوند بیوی کی عصمت کا مالک بن جائے تو اس کے لیے اپنے مال میں کچھ بھی(تصرف)جائز نہیں۔"[3] یہ اور اس سے پہلے والی حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ بیوی کے لیے جائز نہیں کہ وہ خاوندکی اجازت کےبغیر اپنےمال میں تصرف کرسکے اور اس میں یہ ظاہر ہے کہ عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کے لیے خاوند کی اجازت شرط ہے۔اس قول کے قائلین نے ثلث سے زیادہ کی شرط دوسرے دلائل کی وجہ سے لگائی ہے جن میں سے یہ بھی ہے کہ مالک کو صرف ثلث یا اس سے کم میں وصیت کرنے کاحق حاصل ہے۔وہ اس سے زیادہ کی وصیت نہیں کرسکتا ہاں اگر ورثاء اجازت دیں تو پھر کرسکتاہے۔جیسا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قصہ میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں اس وقت مکہ میں تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سرزمین پر موت کو پسند نہیں فرماتے تھے جہاں سے کوئی ہجرت کرچکاہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اللہ ابن عفراء پررحم کرے۔میں نے عرض کیا،اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ﴿قُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ،أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ الثُّلُثُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَالثُّلُثُ،وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ،إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ،﴾ "میں اپنے سارے مال کی وصیت کردوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔میں نے پوچھا،پھر آدھے کی کردوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،نہیں۔میں نے پوچھا پر تہائی مال کی کردوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،تہائی مال کی کر [1] ۔[صحیح صحیح ابن ماجہ ابن ماجہ(2389) کتاب الھبات باب عطیۃ المراۃ بغیر اذن زوجھا] [2] ۔[حسن صحیح :صحیح ابو داود ،ابوداود(3547) کتاب الاجارۃ باب فی عطیہ المراۃ بغیر اذن زوجھا صحیح الجامع الصغیر(7626)] [3] ۔[مسند احمد(2/179)]