کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 328
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کے اور سب مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے۔(آمین یا رب العالمین)(شیخ محمد المنجد) شوہر کو بتائے بغیر اس کی کوئی چیز نکال لینا:۔ سوال۔اگر عورت شوہر کی لا علمی میں اس کے گھر سے کوئی چیز اپنے میکے والوں یا دیگر اقرباء کے لیے نکال لے خواہ وہ چیز چھوٹی ہی کیوں نہ ہوتو اس کاکیا حکم ہے؟ جواب۔عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے شوہروں کے گھر سے کوئی بھی چیز نکالےخواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو،ہاں اگر شوہر نے کسی چیز کی اجازت دی ہوتو پھر جائز ہے بصورت دیگر نہیں۔اسی طرح اگر عورت شوہر کے مال سے کچھ صدقہ کرنا چاہے یا کسی کو کچھ ہدیہ دینا چاہے تو اس کی اجازت ضروری ہے اور اگر اجازت نہ ہوتو پھر اس پر واجب ہے کہ وہ اس کے مال سے کچھ نہ لے۔(شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ) شوہر بقدر کفایت خرچہ نہ دے تو عورت کا بلا اجازت اس کے مال سے کچھ لینا:۔ سوال۔اگر شوہر مجھے خرچہ دینے میں کوتاہی سے کام لیتا ہوں تو کیا میں اس کے علم کے بغیر اس کے مال سے اپنا حق لے سکتی ہوں؟ جواب۔اگر شوہر بقدر کفایت خرچہ نہ دیتا ہو تو پھر عورت شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر اتنا مال لے سکتی ہے جو اسے کفایت کرجائے کیونکہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ان کا شوہر انہیں اتنا مال نہیں دیتا جو انہیں اور ان کے بچوں کو کافی ہوتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ﴾ "معروف طریقے سے تم اتنا مال لے لیا کرو جو تمھیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہوجائے۔"[1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شوہر کی اجازت کے بغیر ہی اس کا مال لینے کی اجازت دے دی۔لیکن یہاں یہ بات [1] ۔[بخاری(2211) کتاب البیوع باب من اجری الامر الامصار علی ما یتعارفون بینهم مسلم(1714) کتاب الاقضیۃ باب قضیۃ ھند ابو داود(2532) نسائی(8/246) ابن ماجہ(2293) کتاب التجارات باب ما لمراة من مال زوجها دارمی(2/159)]