کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 327
کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ علم حاصل کرے دین کی دعوت دے عبادات میں بھی کوشش کرے اور خاوند کا دینی التزام پر تعاون بھی کرے خواہ ان معاملات میں خاوند جتنا بھی کوتاہی کا شکار ہو۔لیکن فی الواقع ایسا نہیں بلکہ عورت تو جس انداز سے اپنے خاوند کی اطاعت کرتی ہے اس طرح کسی اور کی نہیں کرتی اور جب خاوند ہی ان معاملات میں اس کے لیے نمونہ نہیں ہو گا تو پھر عورت بہت جلد پھسل جائے گی اور اس کا دینی التزام بھی کمزور ہوجائے گا۔اکثر و بیشتر یہی ہوتا ہے لیکن کچھ حالات ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو بہت ہی اچھے ہیں جن میں یہ نظر آتا ہے کہ عورت ایک معلمہ اور اپنے خاوند کا ہاتھ پکڑ کر ہدایت کے راستے پر لے جانے والی ہوتی ہے اور آپ کا اس حقیقت سے واقف ہونا کہ وہ تو ایک عام سی لڑکی ثابت ہوئی ہے اس کا معنی یہ نہیں کہ آپ اپنی کوشش میں ناکام ہوئے ہیں اور نہ ہی اس پر ندامت ہونی چاہیے۔بلکہ آپ کے لیے تویہ موقع ہے کہ آپ اس کو دعوت دے کر اس کی ہدایت کا اجرو ثواب حاصل کریں اور آپ نے جو کچھ اس کی اچھی صفات بیان کی ہیں وہ اس مسئلے میں آپ کےلیے معاون ثابت ہوں گی۔(ان شاء اللہ) لہٰذا آپ اس کے لیے ایک داعی کا کردار ادا کریں اس کے فارغ اوقات کو اچھی کیسٹوں کتابوں اور میگزینوں سے مشغول کریں اور جب وہ ٹیلی ویژن دیکھے یا غیبت اور چغلی کرے تو اسے منع کرنے میں آپ ناامید نہ ہوں لیکن آپ اسے روکنے میں نرمی اور محبت سے کام لیں اور یہ کوشش کریں کہ اسے قرآن کریم حفظ کرنے کے لیے کسی بھی مدرسے میں داخل کروادیں اور اپنے ساتھ دروس اور تقریروں میں بھی لے جانا کریں اسی طرح آپ کچھ دین والے اور اچھے اخلاق کے مالک گھرانوں کے ساتھ رابطہ کر کے اسے تقویت دلائیں یہ سب چیزیں اور طریقے آپ کی بیوی کے ایمان کی تقویت کا باعث ہوں گے۔ اور آپ نے جو یہ کہا ہے کہ وہ عبادت بہت کم کرتی ہے یا پھر اس میں سستی کرتی ہے اس کے بارے میں ہم گزارش کریں گے کہ آپ اس مسئلے میں اس کاتعاون کرنے کی کوشش کریں اور اسے نوافل کے فضائل تہجد قیام اللیل اور روزہ رکھنے کا اجرو ثواب بتائیں اور آپ بھی اس کے ساتھ ان عبادات میں حسب استطاعت شریک ہوں اور آپ اپنے خاندان پر ایک ذمہ دار بن کر رہیں اسے حرام اور شک و شبہ والے کام سے روکیں اور آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہا کریں۔ ﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾ "اے ہمارے پروردگار!تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطافرما اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا۔"[1] [1] ۔[الفرقان:74]