کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 324
اس سے نجات عطا فرمائے اور میرے ایمان کو ثابت قدم رکھے اور مجھے ان دونوں کے ظلم اور زیادتی سے محفوظ رکھے۔(آمین یا رب العالمین) جواب۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کی مشکل کو دور کرے اور آپ کے غم کو ختم کرے اور آپ کے ایمان میں ثابت قدمی اور یقین کی زیادتی فرمائے۔آپ نے اپنے خاوند کے حالات ذکر کیے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک بہت ہی برے عمل میں گرفتار ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔اور نہ ہی اس کے رسول کو پسند ہے کسی عورت سے عشق و محبت کے تعلقات قائم کرنا مرد کے لیے حلال نہیں بلکہ واضح طور پر حرام ہیں خواہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہوں یا ٹیلی فون کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے اس لیے کہ یہ کام پھر مزید بڑھ کروعدوں ملاقاتوں اور زناو بد کاری تک لے جاتا ہے اور یقیناً یہ تباہی و ہلاکت ہے۔ اگر یہ مدہوشی اور مستی جس میں آپ کا خاوند زندگی گزاررہا ہے نہ ہوتی تو اسے وحشت اور المناکی محسوس ہوتی اور یہ وہ معاملات ہیں جو گناہ سے خالی نہیں ہوتے۔آپ یہ نہ سمجھیں کہ وہ بڑی نفع مند زندگی گزاررہا ہے بلکہ وہ تو غفلت اور اللہ سے دوری کی زندگی میں ہے جیسا کہ فحش کام کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ﴿لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ﴾ "تیری عمر کی قسم!وہ تو اپنی بد مستی میں سرگرداں تھے۔[1] اور سب سے گندا اور قبیح فعل یہ ہے کہ انسان گناہ کے کام کو اعلانیہ طور پر کرے اور پھر اس پر فخر بھی کرے اور اس کے انجام کی کوئی پرواہ نہ کرتا ہو۔اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اس طرح فرمایا ہے۔ ﴿عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ:سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صلى اللّٰهُ عليه وسلم يَقُولُ:\" كُلُّ أَمَّتِى مُعَافًى إِلاَّ الْمُجَاهِرِينَ،وَإِنَّ مِنَ الْمَجَانَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلاً،ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللّٰهُ،فَيَقُولَ يَا فُلاَنُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا،وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللّٰهِ عَنْهُ﴾ "میری ساری امت سے درگزر کردیا گیا ہے سوائے اعلانیہ برائی کرنے والوں کے اور اعلانیہ گناہ میں سے یہ بھی ہے کہ انسان رات کے اندھیرے میں کوئی کام کرے اور جب صبح کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام کی پردہ پوشی فرمائی تھی لیکن وہ یہ کہتا پھرے کہ اے فلاں!میں نے رات ایسا ایسا کیا۔رات بھر تو اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی اور صبح کو وہ اللہ تعالیٰ کے پردے کو اتار پھینکے۔"[2] [1] ۔[الحجر:72] [2] ۔[بخاری 6069۔کتاب الادب باب ستر المومن علی نفسہ]