کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 322
موت یاد دلائی جائے قیامت کا ذکر کیا جا ئے جنت اور جہنم کے متعلق بتایا جائے اطاعت کی برکات نافرمانی کی نحوست مطیع و فرمانبردار کے دل کی راحت اور نافرمانوں کی وحشت وغیرہ جیسے موضوعات کی کیسٹیں اسے سنائی جائیں اور اسی طرح اگر ممکن ہو سکے تو کسی دعوت و تبلیغ کرنے والے عالم دین یا پھر امام مسجد کے ذریعے اسے سمجھایا جائے اور کوشش کریں کہ اسے اچھی اور صالح صحبت حاصل ہو جا اسے نیکی اور اصلاح پر ابھارے اور اسے بری صحبت اختیار کرنے کے خطرات سے آگاہ کرے اور اسی طرح دوسرے اسلوب بھی استعمال کریں۔واللہ اعلم)(شیخ سعد الحمید) کیا بیوی کو نماز فجر کے لیے اٹھانا شوہر پر واجب ہے؟ سوال۔اگر بیوی نماز فجرکی ادائیگی کے لیے بیدار نہ ہوتو کیا شوہر پر کوئی مسئولیت مرتب ہوتی ہے یا اس سے شوہر گناہگار تو نہیں ہو گا؟ جواب۔اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے جانا جا سکتا ہے۔ ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾ "مردعورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔"[1] اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ ﴿وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،﴾ "مرد اپنے گھر کا نگران ہے اور اس سے اس کی رغبت کے بارے میں سوال ہو گا۔[2] پس شوہر پر واجب ہے کہ وہ کسی بھی ذریعے سے اپنی بیوی کو نہاز کے لیے بیدار کرے الاکہ کوئی حرام ذریعہ ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ذمہ دار ہو گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللّٰهَ مَا أَمَرَهُمْ [1] ۔[النساء :34] [2] ۔[بخاری 893۔کتاب الجمعہ باب الجمعہ فی القری والمدن مسلم 1829۔کتاب الامارۃ باب فضیلہ الامیرا العادل و عقوبۃ الجائر والحث علی الرمق بالرعیۃ ترمذی 1705کتاب الجہاد باب ماجاء فی الامام ]