کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 317
لونڈی کے علاوہ اپنے ستر کی ہر ایک سے حفاظت کرو۔[1] امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ: مرد کے لیے اپنی بیوی(اور لونڈی جس سے ہم بستری مباح ہے)کی شرمگاہ دیکھناجائز ہے اسی طرح وہ دونوں بھی مرد کی شرمگاہ دیکھ سکتی ہیں اصلاً اس میں کوئی کراہت ہی نہیں۔[2] شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے شوہر کے لیے بیوی سے ہم بستری جائز قرار دی ہے تو کیا اس کی شرمگاہ کودیکھنے سےمنع کیا ہوگا؟ایسا نہیں ہوسکتا۔[3] سوال کا دوسرا حصہ یعنی"اس حالت میں طہارت وپاکیزگی کا کیا حکم ہے"کا جواب یہ ہے کہ سوتے وقت معانقہ کرکے(یعنی ایک دوسرے کے جسم سے جسم ملا کر)سونا،اگر تو ا سے نہ انزال ہوا ہے اور نہ جماع کیا گیا ہے تو غسل واجب نہیں ہوتا بلکہ صرف وضوء ہی کرلینا کافی ہے۔ہاں اگر مذی نکلی ہوتو اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضوءکرنا چاہیے اور عورت بھی اپنی شرمگاہ دھو کروضوءکرے۔یعنی دونوں استنجاء کرکے وضوء کرلیں انھیں غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔(شیخ محمدالمنجد) شوہر بیوی کے جسم کے کس کس حصے کو دیکھ سکتا ہے؟ سوال۔کیا شرعی طور پر یہ جائزہے کہ بیوی اپنے شوہر کا سارا جسم دیکھے اور شوہر اپنی بیوی کا؟ جواب۔عورت کے لیے اپنے شوہر کا سا را جسم دیکھنا اور شوہر کے لیے اپنی بیوی کا سارا جسم دیکھناجائز ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے یقیناً وہ ملامتیوں میں سے نہیں۔"[4](شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ) [1] ۔[حسن ارواءالغلیل (1810) صحیح الجامع الصغیر(203) صحیح ابو داود ،ابوداود(4017) کتاب الحمام باب ماجاء فی التعری ابن ماجہ(1920) کتاب النکاح باب التمتر عند الجماع ترمذی(2769) کتاب الادب باب ما جاء فی حفظ العورۃ آداب الذفات (ص/39) حجاب المراۃ المسلمۃ(ص/23) غایۃ المرام(70)] [2] ۔[المحلی لابن حزم(9/165)] [3] ۔[السلسلۃ الضیعفہ(1/353)] [4] ۔[المومنون ۔5۔6]