کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 310
"اورحج کے مہینے مقرر ہیں اس لیے جوشخص ان میں حج لازم کرلے وہ اپنی بیوی سے ملاپ کرنے اور گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑا کرنے سے بچارہے۔"[1] 2۔ ایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ﴾ "روزے کی راتوں کو اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیاگیا ہے وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔"[2] مذکورہ آیت میں ر فث سے مراد بیوی سےہم بستری اور اس سے متعلقہ کام ہیں۔ 3۔ ایک اورمقام پر کچھ اس طرح فرمایا: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ "لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے لہذا تم حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ(حیض سے)پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب مت جاؤ۔"[3](شیخ محمد المنجد) پشت میں ہم بستری حرام ہے:۔ سوال۔ایک آدمی نے اپنی بیوی کے سامنے اسکی پشت میں ہم بستری کرنے کی خواہش کااظہار کیا،تو کیا دینی نقطہ نظر سے یہ صحیح ہے؟ جواب۔یہ عمل گناہ ہے اور حدیث میں جید سند کے ساتھ موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا﴾ "وہ شخص معلون ہے جو ا پنی بیوی کے پاس اس کی پشت میں ہم بستری کے لیے آئے۔"[4](شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ) [1] ۔[البقرہ۔197] [2] ۔[البقرہ۔187] [3] ۔[البقرہ۔222] [4] ۔[حسن صحیح الجامع الصغیر(5889) ابو داود(2162) کتاب النکاح باب فی جامع النکاح صحیح الترغیب(2432) کتاب الحدودوغیرھا باب الترھیب من اللواط وانیان الیھیۃ والمراۃ فی دبرھا آداب الذفاف(ص/33)]