کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 298
بیوی سے کسی کے سامنے ہم بستری کرنا حرام ہے ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ جب دیکھنے والاکوئی بچہ ہو جو ایسی چیزوں کا علم اور شعور نہیں رکھتا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر وہ بچہ جو کچھ کیا جارہا ہے اس کاتصور کر سکتا اور اس کی نقل اتارسکتا ہوتو پھر اس کے سامنے بھی ہم بستری کرنا صحیح نہیں اگر چہ وہ بچہ ہی ہے اس لیے کہ ممکن ہے کہ بلا قصد وارادہ جو کچھ اس نے دیکھا ہے آگے بیان کرنا شروع کردے۔(شیخ محمد المنجد) کیا شوہر بیوی کو ہم بستری پر مجبور کر سکتا ہے؟ سوال۔کیا مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی اپنی لونڈی کو انکار کرنے کی صورت میں ہم بستری پر مجبور کرے؟ جواب۔عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ آپ کو خاوند کی حاجت پوری کرنے سے روکے رکھے بلکہ جب بھی شوہر اسے بلائے اسے اس کی بات پر لبیک کہنا چاہیےہاں جب یہ اس کے لیے باعث تکلیف یا کسی واجب کام سے رکنے کا سبب بن رہا ہو تو پھر رک سکتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب شوہر اپنی بیوی کو بستر کی طرف(ہم بستری کے لیے)بلائے اور وہ آنے سے انکار کردے تو صبح تک فرشتے اس(بیوی)پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔[1] اگر بیوی بلا عذر شوہر کو ہم بستری کا حق نہیں دے گی تو وہ نافرمان شمارہوگی۔اور ایسا کرنے سے اس کا نان ونفقہ بھی شوہر پر سے ساقط ہو جائے گا۔ایسی صورت حال میں خاوند پر ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اللہ کے عذاب سے ڈرائے اسے بستر میں الگ کردے اسے یہ بھی اجازت دی گئی ہے کہ اسے ہلکی مار مارلے۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان یوں ہے۔ ﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا﴾ "جن عورتوں کی نافرمانی اور بد دماغی کا تمھیں خوف ہوانہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑدو۔اور انہیں مارکی سزا دو پھر اگر وہ تابعداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ بڑی بلندی اور [1] ۔[بخاری 5193کتاب النکاح باب اذا باتت المراۃ مہا جرۃ فراشزوجہا مسلم 1436۔کتاب النکاح باب تحریم امتناعہا من فراش زوجہا ]