کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 292
"تحفۃ العروس "(اس کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے)وغیرہ۔[1] حاصل کلام یہ ہے کہ خاوند سے بات چیت کرنے میں کوئی مانع و حرج نہیں اور اسے اس قسم کی کتابیں پڑھنے کی رہنمائی کرنا بھی مفید ہے اس کے ساتھ ساتھ عورت کو بھی چاہیے کہ شوہر کو اپنی طرف راغب کرنے والے کچھ کام کرے مثلاً بناؤ سنگھار اور اس سے محبت وغیرہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے۔(شیخ عبد الکریم) اگر شوہر چارماہ میں صرف ایک ہی بار ہم بستری کرے:۔ سوال۔سلام کے بعد ایک عورت کا کہنا کہ وہ اسلام میں عورت کے حقوق کے متعلق ایک سوال پوچھنا چاہتی ہے سوال یہ ہے کہ جب خاوند اپنی بیوی سے چار ماہ بعد ہی ہم بستری کرے اور یہ عورت کی رغبت کو پورا نہ کرتا ہو تو کیا اسلام میں اس کا کوئی حل ہے؟ جواب۔بلاشبہ یہ فعل غلط ہے اور معاشرت زوجیت کے بھی خلاف ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ "اور تم ان(عورتوں)کے ساتھ اچھے طریقے سے گزربسر کرو۔"[2] اور ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ﴿وَلَهُنَّ مِثلُ الَّذِي عَلَيهِنَّ بِالمَعرُوفِ﴾ "اور ان(عورتوں)کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان(مردوں)کے ہیں اچھے اور احسن انداز میں۔[3] اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو تم میں سے اپنی بیوی کے لیے سب سے بہتر ہے اور میں تم میں اپنی بیوی کے لیے سب سے بہتر ہوں۔[4] [1] ۔نیز اس ضمن میں راقم کی کتاب "نکاح کی کتاب"بھی لائق مطالعہ ہے۔(مرتب) [2] ۔[النساء :19] [3] ۔[البقرۃ:228] [4] ۔[صحیح الصحیحہ 285۔صحیح الجامع 3314۔ترمذی 3895۔کتاب المناقب باب فضل ازواج النبی دارمی۔159/2]