کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 287
کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم دن میں تو روزہ رکھتے ہواور ساری رات نماز پڑھتے ہو؟میں نے عرض کیا کہ صحیح ہے اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایسا نہ کرو۔(بلکہ)روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو نماز بھی پڑھو اور آرام بھی کرو۔کیونکہ تمھارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تمھاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے تمھاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمھارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے۔[1] اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں کہ یہ خاوند کے لائق نہیں کہ وہ عبادات میں اتنی کوشش کرے کہ وہ جماع اور کمائی کرنے کے حق سے کمزور ہوجائے۔ اور خاوند پر بیوی کایہ حق ہے کہ خاوند اس کے پاس رات بسر کرے۔امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب کسی کی بیوی ہوتو اس پر ضروری ہے کہ اگر کوئی عذر نہیں تووہ چارراتوں میں سے ایک رات اس کے پاس بسر کرے۔[2] شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ: بیوی کی خواہش کے لحاظ سے خاوند پر ہم بستری واجب ہے جب تک خاوند کا بدن کمزور نہ ہو یا اس وجہ سے اس کی معیشت رک جائے۔[3] شرعی پر مطلوب تویہ ہے کہ خوند کی ہم بستری کے ذریعے بیوی کو فحاشی اور حرام کام سے بچایا جائے اور ہم بستری بھی بیوی کی خواہش کے مطابق اور اتنی ہو جس سے یہ بچاؤہوسکے۔لہذا اس کے لیے چارماہ یا اس سے زیادہ یا اس سے زیادہ یا کم مدت مقرر کرنے میں کوئی وجہ نظر نہیں آتی بلکہ اس میں تو یہ ہونا چاہیے کہ ہم بستری اتنی ہو جتنی کا حق خاوند ادا کرسکے اور بیوی کی جتنی خواہش ہو۔ یہ تو عام حالات اور خاوند کی موجودگی میں ہے کہ خاوند اپنی بیوی کے ساتھ رہائش پذیر ہو۔لیکن اگر وہ سفر یا کسی اور کام مثلاً تجارت وغیرہ کی بنا پر غائب ہے تو اس حالت میں خاوند کوکوشش کرنی چاہیے کہ وہ بیوی سے زیادہ مدت تک غائب نہ رہے۔اور اگر اس کے غائب ہونے کا سبب تمام مسلمانوں کاکوئی منافع ہو مثلاً جہاد فی سبیل اللہ میں نکلا ہو یا مسلمانوں کی سر حدوں کی حفاظت پر مامور ہوتو اس پر ضروری ہے کہ چارماہ کے اندر اندر اپنے گھر واپس آئے تاکہ کچھ وقت اپنے بیوی بچوں میں گزارے اور پھر دوبارہ سرحدوں پر یا جہاد میں چلاجائے۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوجیوں اور سر حدی محافظوں کے لیے یہ مقرر کیا تھا کہ وہ اپنی بیویوں سے چار مہینے دور رہیں جب [1] ۔[بخاری 1975۔کتاب الصوم باب حق الجسم فی الصوم ] [2] ۔[المغنی لابن قدامۃ 28/7] [3] ۔[الاختیارات الفقہا۔ص246]