کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 281
ولیمہ کا مفہوم سوال۔عقیقہ اور ولیمہ کیا ہے؟ جواب۔"عقیقہ"اس چیز کو کہتے ہیں جسے بچے کی پیدائش کے مو قع پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکرادا کرنے کے لیے ذبح کیا جاتا ہے"ولیمہ"وہ کھانا ہے جسے شادی کے موقع پر مدعوین کے لیے پیش کیا جاتا ہے خواہ جانور ہو یا اس کے علاوہ کچھ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرنے کے لیے سنت ہے اور اس کے فوائد میں سے خوشی اور نکاح کا اعلان کرتا ہے نیز ولیمہ کا لفظ شادی کے علاوہ عام دعوت طعام کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔(سعودی فتوی کمیٹی) کیا ولیمہ میں خاوند اور بیوی کی موجودگی ضروری ہے؟:۔ سوال۔کیا خاوند اور بیوی کا شادی کی مبارکبادکے وقت موجود ہو نا واجب ہے؟ جواب۔اگر تو مبارکباد سے مقصد عقد نکاح ہے تو پھر خاوند اور لڑکی کے والد کا حاضر ہونا شرط ہے اس لیے کہ عقد نکاح ایجاب و قبول کے بغیر ممکن نہیں اور ایجاب لڑکی کے ولی جانب سے اور قبول خاوند کی جانب سے ہوتا ہے۔لیکن اگر مبارکباد سے مراد شادی اور ولیمہ کی تقریب ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں کہ ان کی موجود گی میں بھی اس کا انعقاد کر دیا جائے۔(شیخ محمد المنجد) ولیمہ میں کھانا پکانے کی کیا حد ہے اور اس میں اسراف کرنے کاکیا حکم؟:۔ جواب۔ولیمہ سنت ہے اور شرعاً اس کی ترغیب دلائی گئی ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل بھی ہے اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب شادی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا تھا۔ "أولم ولو بشاة"ولیمہ کرو خواہ ایک بکری کے ساتھ ہی۔[1] [1] ۔[بخاری 5167۔کتاب النکاح باب الولیمہ ولوبشاۃ مسلم 1427۔کتاب النکاح باب الصداق و جواز کونہ تعلیم قرآن و خاتم حدید ابو داؤد 2109۔کتاب النکاح باب قللۃ المہرترمذی 1094۔کتاب النکاح باب ماجاء الولیمہ ابن ماجہ فی ولیمہ ابن ماجاء 1907کتاب النکاح باب الولیمہ نسائی 119/6۔مؤطا 545/2]