کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 276
ہے کہ وہ رسمی طور پر خاوند ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی وہ خاوند اور بیوی شمار ہوں گے؟ جواب۔جب شرعی شروط کے ساتھ نکاح کیاجائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت میں خاوند اور بیوی شمار ہوں گے عقد نکاح کے بعد ان کا آپس میں بات چیت کرنا اٹھنا بیٹھنا اور ہر قسم کی آزادی کے ساتھ آپس میں خلوت کرنا بھی جائز ہوگا۔ مستقل فتویٰ کمیٹی سے سوال کیا گیا کہ عقد نکاح کے بعد اور رخصتی سے قبل خاوند اور بیوی کے لیے کچھ کرنا حلال ہے؟تو کمیٹی نے جواب دیا: اس کے لیے وہی کچھ حلال ہے جو اس خاوند اور بیوی کے لیے جائز ہے جنھوں نے ہم بستری کرلی ہے وہ اسے دیکھ بھی سکتاہے اور بوس وکنار بھی کرسکتا ہے اسی طرح اس کے ساتھ سفر اور جماع بھی کرسکتا ہے۔[1](شیخ محمد المنجد) عقد نکاح کے بعد اگر لمبی مدت تک رخصتی نہ ہو:۔ سوال۔میں کینیڈا میں ملازمت کرتا ہوں اور اس سال میں اپنے مادری وطن پاکستان گیا تو شادی کی لیکن کچھ ناگزیر اسباب کی بناء پر یہ شادی مکمل نہ ہوسکی(یعنی رخصتی نہ ہوئی)ہم نے دوسرے دن عقد نکاح کا ولیمہ بھی کیا اور پھر میں اپنی ملازمت کی وجہ سے کینیڈا واپس آگیا۔ اب مجھے کینیڈا آئے ہوئے چھ ماہ ہوچکے ہیں اور ابھی تک بیوی کا ویزہ نہیں مل سکا مجھے ایک د وست نے بتایا کہ میری شادی ختم ہوچکی ہے کیونکہ عقد نکاح کو چھ ماہ سے بھی زیادہ گزر چکے ہیں اور ابھی تک شادی مکمل نہیں ہوئی تو کیا اس کی یہ بات صحیح ہے اور کیا جب میری بیوی کینیڈا آئے تو ہمیں تجدید نکاح کرانا ہوگا؟مجھے جلدی جواب دیں کیونکہ عنقریب میری بیوی کینیڈا پہنچنے والی ہے شکریہ۔ جواب۔جب عقد نکاح شرعی شروط کے ساتھ کیاجائے تو وہ نکاح صحیح ہے اور ا پنی اصل پر باقی رہتاہے آپ کے لاعلم دوست کی یہ بات کہ چھ ماہ تک اگرنہ ملاجائے تو نکاح فاسد ہوجاتا ہے۔غلط ہے۔اگر آپ نے اس کی بات کو برحق ماناہے تو ا س حالت میں آپ پرضروری ہے کہ آپ اپنےدوست کو نصیحت کریں کہ وہ بغیرعلم کے کسی کو بھی فتوے نہ دیتا پھرے۔ البتہ اگر وہ آپ کو یہ نصیحت کرتاکہ اپنی بیوی کو بغیر محرم کے سفر نہ کرانا بلکہ کینیڈا آنے کےلیے اس کے ساتھ [1] ۔[دیکھیں: فتاویٰ الجامع للمراۃ المسلمۃ(2/540)]