کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 269
کیا نیک مرد نیک عورت سے ہی شادی کرے؟ سوال۔میں نے سنا ہے کہ انسان جس کا مستحق ہواسے وہی ملتا ہے(یعنی خاوند یا بیوی)اگر تو وہ نیک اور صالح ہو تو اس کا خاوند بھی نیک اور صالح ہو تا ہے لیکن مجھے اس موضوع میں کوئی حدیث نہیں ملی آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ جواب۔آپ نے جو یہ سنا ہے کہ انسان کی شادی بھی اسی سے ہوتی ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے یعنی اگر نیک ہوتو نیک اور صالح سے اور اگر بد ہوتو بد سے یہ صحیح نہیں اور اس کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں میں سے حضرت نوح اور حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق بیان کیا ہے کہ ان دونوں کی بیویاں کافر تھیں اس کاذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے کچھ اس طرح فر مایا: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا اِمْرَأَةَ نُوحٍ وَامْرَأَةَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ﴾ "اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے نوح اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے یہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو(شائستہ اور)نیک بندوں کے گھر میں تھیں پھر انھوں نے ان کی خیانت کی تو وہ دونوں(نیک بندے)ان سے اللہ تعالیٰ کے(کسی عذاب کو)روک نہ سکے اور حکم دے دیا گیا(اے عورتو!)دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاؤ۔"[1] 2۔ شریعت اسلامیہ نے زانی مرد کو پاکدامن عورت سے اور اسی طرح پاکدامن مرد کو زانیہ عورت سے شادی کرنے سے منع کیا ہے اور یہ بھی اس(یعنی نیک کے ساتھ بدکے نکاح)کے وقوع کے امکان پر دلالت کرتا ہے بلکہ ایسا بہت زیادہ ہوا بھی ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ﴿الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ "زانی مردزانیہ یا مشرک عورت کے علاوہ کسی اورسے شادی نہیں کرتا اور زانیہ عورت بھی زانی مرد یا مشرک مرد کے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کیا گیا ہے۔"[2] [1] ۔[التحریم :10] [2] ۔[النور:3]