کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 267
دیگر کاموں کے لیے دوسروں کو متوجہ کرتا ہے کیونکہ اس حالت میں قابل فہم اشارہ اس کے حق میں کلام کے ہی قائم مقام ہے۔(سعودی فتوی کمیٹی) اگر عقد نکاح کے وقت حقیقی نکاح کی نیت نہ ہو:۔ سوال۔میں نے ایک لڑکی سے کسی فائدے کے لیے نکاح کیا تھا قانونی اعتبار سے تو یہ شادی صحیح تھی کیونکہ ہم نے یہ شادی باقاعدہ گواہوں کی موجودگی لڑکی کے والدین اور اپنے والدین کی موجودگی میں اندراج کرائی تھی لیکن میری نیت شادی کی نہیں تھی بلکہ نیت یہ تھی کہ ہم قانون کے سامنے یہ ظاہر کریں کہ ہم شادی شدہ ہیں عقدنکاح کو پانچ برس گزرنے کے باوجود ہم نے ازدواجی تعلقات قائم نہیں کیے اور اب ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم علیحدہ نہ ہوں اور نہ ہی میں اسے طلاق دوں بلکہ اب ہم حقیقی خاوند اور بیوی بن کر رہنا چاہتے ہیں اب ہماری نیت شادی کی ہے تو سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ آیا ہمیں تجدید نکاح کرنا ہو گا کہ نہیں؟ جواب۔منفعت کے لیے شادی کی نیت کچھ حیثیت نہیں رکھتی بلکہ جب مکمل شروط کے ساتھ ایجاب و قبول ہو جائے تو نکاح واجب ہو جاتا ہے خواہ عقدنکاح کرنے والے طرفین یا ان میں سے کوئی ایک طرف یہ نکاح بطور کھیل و مذاق ہی رہاکرہو۔احناف حنابلہ کا مسلک یہی ہے اور مالکیہ کے ہاں بھی یہی معتبرہے اور شوافع بھی اسےہی صحیح قرار دیتے ہیں۔[1] ان سب حضرات کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مندرجہ فرمان ہے۔ ﴿ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ:النِّكَاحُ،وَالطَّلَاقُ،وَالرَّجْعَةُ﴾ "تین باتیں ایسی ہیں جنہیں اگر سنجیدگی سے کہا جائے تو بھی پختہ ہیں اور اگر مذاق سے کہا جائے تو بھی سنجیدگی ہیں۔ایک نکاح دوسری طلاق اور تیسری رجوع۔"[2] [1] ۔[مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: فتح القدیر 19903۔المغنی لابن قدامۃ 61/7کشاف،القناع،40/5۔حاشیہ،الدسوفی،221/2۔نہایۃالمحتاج 209/6۔روضۃ الطالبین 54/4۔ [2] ۔[حسن ارواء الغلیل 1826ابو داؤد 2194۔کتاب الطلاق علی الہزل ترمذی 1184۔ کتاب الطلاق واللعان باب ماجاء فی الجد والہزل فی الطلاق ابن ماجہ 2039۔کتاب الطلاق باب من طلق او نکح لاعباسعید منصور 1603۔طحاوی 18/3۔دارقطنی 257۔256/3۔مستدرک حاکم 198/2]