کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 266
بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور تمام کاموں سے بد ترین کام وہ ہیں جو(اللہ کے دین میں)اپنی طرف سے نکالے جائیں دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم کی آگ ہے۔"[1](سعودی فتویٰ کمیٹی) خطبہ نکاح میں رفع الیدین:۔ سوال۔کیا کسی حدیث میں خطبہ نکاح میں رفع الیدین(دونوں ہاتھوں کو اٹھانا)ثابت ہے؟ جواب۔خطبہ نکاح میں رفع الیدین جائز نہیں کیونکہ یہ(کسی بھی حدیث میں)موجود نہیں۔(سعودی فتوی کمیٹی) کیا نکاح کے وقت لکھت پڑھت ضروری ہے؟:۔ سوال۔کیا زبانی طور پر بھی عقد نکاح ہو سکتا ہے یا کہ لکھنا ضروری ہے؟ جواب۔لوگوں میں ہونے والے معاملات اور معاہدات لکھنا تو صرف توثیق اور تصدیق کا ایک وسیلہ ہیں نہ کہ عقد نکاح ہونے کی شرط یعنی لکھنے کے بغیر بھی یہ صحیح ہے عقد نکاح لڑکی کے ولی کے ایجاب یعنی میں نے اپنی بیٹی کی تجھ سے شادی کی اور خاوند کی جانب سے اسے قبول کرنے کو نکاح کہتے ہیں اور اس میں لکھنے کی کوئی شرط نہیں لیکن اگر لکھ لیا جائے تو یہ ایک مستحسن اقدام ہے تاکہ اس نکاح کی تصدیق و توثیق ہو سکے اور خاص کر ہمارے اس دور میں اللہ تعالیٰ ہی مددو تعاون کرنے والا ہے۔(شیخ محمد المنجد) بہرے اور گونگے کا عقدنکاح:۔ سوال۔ایک آدمی بہرہ اور گونگا ہے اور وہ شادی کرنا چاہتا ہے تو شرعی طور پر اس کا عقد کیسے مکمل ہو گا جبکہ وہ نہ تو پڑھنے پر قادر ہے اور نہ ہی لکھنے پر؟ جواب۔بہرہ اور گونگا شخص اس قابل فہم اشارے کے ذریعے شادی کرائے گا جس کے ساتھ کھانے پینے اور [1] ۔[صحیح ،صحیح ابو داؤد 1860۔کتاب النکاح ،باب خطبہ النکاح ابو داؤد 2118نسائی۔104/3۔حاکم182/2۔بیہقی 146/7۔تمام المنۃ ص/335۔334۔اروا الغلیل 608]