کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 262
جواب۔ہر وہ کلمہ جو عقد نکاح پر دلالت کرتا ہو اس کے ساتھ عقد نکاح درست ہے مثلاً مذکورہ کلمے اور جو بھی ان کے معنی میں ہوں علماء کے اقوال میں سے صحیح ترین یہی ہے ان کلموں میں زیادہ واضح کلمے یہ ہیں "میں نے تیری شادی کردی"اور" میں نے تیرا نکاح کردیا" اور میں نے تجھے مالک بنادیا "وغیرہ۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) اعلان نکاح کا سبب:۔ سوال۔شادی کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ اس کا اعلان کرنا ضروری ہے آخر اس کا کیا سبب ہے؟ جواب۔شادی کا اعلان کرنا واجب ہے اور اس کا سبب یہ ہے۔ 1۔ حدیث نبوی میں اس کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد نبوی ہے کہ: وأَعْلِنُوا النِّكَاحَ "نکاح کا اعلان کرو"[1] 2۔ اس لیے کہ نکاح شرعی کی زنا وغیرہ سے تمیز ہو سکے کیونکہ زنا طور پر کیا جاتا ہے جبکہ نکاح شرعی اعلانیہ اور لوگوں کے سامنے ظاہرہوتا ہے۔اعلانیہ نکاح کرنے کی حکمت یہی ہے کہ تہمت سے بچا جاسکے۔(شیخ محمد المنجد) شادی کے موقع پر دف بجانا:۔ سوال۔دف [2]بجانے کا کیا حکم ہے؟ جواب۔امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اور امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَرَامِ وَالْحَلَالِ الدُّفُّ وَالصَّوْتُ في النكاح﴾ "حلال اور حرام کے درمیان امتیاز نکاح کا اعلان کرنے اور نکاح کے وقت دف بجانے سے ہو تا ہے۔[3] اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں۔ [1] ۔[حسن آداب الزفاف (ص183)صحیح الجامع الصغیر1072] [2] ۔واضح رہے کہ دف آواز پیدا کرنے کا ایک ایسا یکطرفہ آلہ ہے جس سے کوئی سر پیدا نہیں ہوتی۔ [3] ۔[حسن ھدایہ الرواۃ 3088۔266/3۔ابن ماجہ 1896۔ کتاب النکاح باب اعلان النکاح ترمذی 1088۔کتاب النکاح باب ماجہ فی اعلان النکاح نسائی 127/6]