کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 256
قیامت سب لوگوں کے سامنے رسوا کرے گی۔(شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ) مہر کو کرنسی سے سونے میں تبدیل کرنا:۔ سوال۔میں نے آٹھ برس قبل شادی کی اور اب تک میں نے بیوی کو مہر ادا نہیں کیا لیکن اب میں سوچ رہا ہوں کہ اس کامہر(جو کہ سات ہزار انڈین روپے ہے)کی بجائے اتنی یا اس سےزیادہ قیمت کازیور خرید دوں۔میں نے بیوی سے بھی اس کے بارے میں پوچھا کہ تم پیسے لینا چاہتی ہو یازیور تو اس نے جواب میں کہا کہ جیسے تم چاہو۔میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ مجھے نصیحت فرمائیں کہ مجھے مہر کیسے ادا کرنا چاہیے؟ جواب۔اصل بات تو یہی ہے کہ بطور مہر وہی چیز ادا کی جائے گی جو اس نے بیوی کو کہی تھی لیکن اگرخاوند اور بیوی دونوں اس کے خلاف یا پھر اس میں کمی یا زیادتی پر متفق ہوجائیں تو ایساکرنا بھی جائز ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور مہر مقررہوجانے کے بعد تم آپس کی رضا مندی سے جوطے کرلو اس میں تم پر کوئی حرج نہیں۔"[1] امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یعنی مہر مقرر ہوجانے کے بعد رضا مندی کے ساتھ اس میں کمی یا زیادتی کرنا جائز ہے۔[2] شیخ صالح فوزان رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے: جب بیوی اپنے مہر میں سے خاوند کو کچھ یا سارا ہی معاف کردے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ یہ اس کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہےکہ: "اگر وہ خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہوکر کھالو۔"[3] اس میں طرفین کا اتفاق ضروری ہے۔[4] اس سے یہ واضح ہوا کہ جب عورت اس پر راضی ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ اس کاحق ہے اور [1] ۔[النساء۔24] [2] ۔[تفسیر قرطبی(5/235)] [3] ۔[النساء۔4] [4] ۔[فتاویٰ نور علی الدرب(109)]