کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 253
کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب وہ کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ وہ واپس جارہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا۔جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمھیں قرآن مجید کتنا یاد ہے؟انہوں نے کہا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں انہوں نے گن کر بتائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم انہیں بغیر دیکھے پڑھ سکتے ہو؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،پھر جاؤ میں نے ان سورتوں کے بدلے جو تمھیں یاد ہیں انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔"[1] اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ مہر کم بھی ہوسکتا ہے۔اور زیادہ بھی لیکن اس میں شوہر اور بیوی کی رضا مندی ضروری ہے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،سلف صالحین اور بعد میں آنے والے جمہور علمائے کرام کا یہ مسلک ہے۔امام ربیعہ رحمۃ اللہ علیہ،امام ابو الزناد رحمۃ اللہ علیہ،امام ابن ابی الذئب رحمۃ اللہ علیہ،امام یحییٰ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ،امام لیث بن سعد رحمۃ اللہ علیہ،امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ،امام مسلم بن خالد رحمۃ اللہ علیہ،امام ابن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ،امام داود رحمۃ اللہ علیہ اور اہل حدیث فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے اصحاب میں امام ابن وہب کا بھی یہی مسلک ہے۔نیز حجازیوں،بصریوں،کوفیوں اور شامیوں کا بھی یہی مسلک ہے کہ جس پر بھی خاوند اور بیوی راضی ہوجائیں(وہی مہر مقرر ہوگا)خواہ وہ زیادہ ہو یا کم مثلاً ج جوتے،لوہے کی انگوٹھی اور چھڑی وغیرہ۔ اورامہات المومنین رضوان اللہ عنھن اجمعین کے مہر کے بارےمیں گزارش ہے کہ: ابو سلمہ بن عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر کتنا تھا؟تو انہوں نے فرمایا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر بارہ اور نش اوقیہ تھا۔فرمانے لگیں کہ نش کا علم ہے کہ وہ کتنا ہے؟ابو سلمہ کہتے ہیں میں نے جواب دیا نہیں،وہ کہنے لگیں کہ(نش سے مرادہے)نصف اوقیہ۔تو یہ پانچ سودرہم ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کامہر تھا۔[2] علامہ ابن خلدون کہتے ہیں: آپ یہ ا پنے علم میں رکھیں کہ ابتدائے اسلام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہ کے دور سے یہ اجماع پایاجاتاہے کہ شرعی درہم وہ ہے جس کاوزن دس درہم سات مثقال سونے کے برابر ہو اور ایک اوقیہ چالیس درہم کاہوتا ہے تو [1] ۔[ بخاری (5087۔5130) کتاب النکاح باب تزویج المعسر،مسلم(1425) احمد(5/330)ابو داود(2111)ترمذی(1114)] [2] ۔[مسلم(1426) کتاب النکاح باب الصداق وجواز کونہ تعلیم قرآن وخاتم حدید وغیر ذلک من قلیل و کثیر ابو داود(2105)کتاب النکاح باب الصداق نسائی(6/116) ابن ماجہ(1886) کتاب النکاح باب صداق النساء احمد(9316)]