کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 252
اس معنی کی ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں: ﴿خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ﴾ "بہترین نکاح وہ ہے جو(مہر کے لحاظ سے)آسان ہو۔"[1] اسے مہر کو آسان(یعنی کم)کرنے کی ترغیب دلانا مقصود ہے۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) کم از کم مہر کی مقدار:۔ سوال۔کم از کم مہر کتنا ہے۔اور موجودہ کرنسی کے مطابق امہات المومنین رضوان اللہ عنھن اجمعین کا مہر کتنا ہے؟ جواب۔کم از کم مہر کے متعلق صحیح مسلم میں ایک روایت ملتی ہے جو ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں،حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: "ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ کے لیے وقف کرنے حاضر ہوئی ہوں۔راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا،پھر آپ نے اپنی نظر کو نیچا کیا اور پھر اپنا سر جھکا لیا۔جب اس عورت نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!اگر آپ کو ان سے نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو میرا ان سے نکاح کردیجئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس(حق مہر کی ادائیگی کے لیے)کچھ ہے؟انہوں نے عرض کیا کہ نہیں اللہ کی قسم!اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سےفرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو ممکن ہے تمھیں کوئی چیز مل جائے۔وہ گئے اور واپس آگئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم!میں نے کچھ نہیں پایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تلاش کرو اگر لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ۔وہ گئے اور واپس آگئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم!اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!میرے پاس لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے البتہ میرے پاس یہ تہبند ہے۔انہیں(یعنی اس عورت کو)اس میں آدھا دے دیجئے۔راوی نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہبند کا کیا کرے گی۔اگر تم اسے پہنو گے تو ان کے لیے اس میں سے کچھ نہیں بچے گا اور اگر وہ پہن لے گی تو تمہارے لیے کچھ نہیں رہے گا۔اس کے بعد وہ صحابی بیٹھ گئے۔ [1] ۔[صحیح ۔صحیح ابوداود(1859) کتاب النکاح باب فیمن تزوج ولم یسم صداقا حتی مات،ارواء الغلیل (1924) ابو داود(2117) السلسلۃ الصحیحہ(1842) صحیح الجامع الصغیر(3300)]