کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 249
خوش ہوکر کھالو۔[1](شیخ محمد المنجد) والد کا اپنی بیٹی کے مہر سے کچھ لینا:۔ سوال۔کیا باپ اپنی بیٹی کے مہر سے کچھ لے سکتاہے؟ جواب۔باپ کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے مہر سے کچھ یا اس کا اکثر حصہ لے لے کیونکہ جب وہ اس کے ذاتی مال کا مالک بن سکتا ہے(جیسا کہ حدیث میں ہے کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے)تو مہر کاکیوں نہیں(مگر شرط یہ ہے بیٹی مہر میں سے باپ کوکچھ دینے پر راضی ہوورنہ جبری طور پر بیٹی سے مہر لینا یا یہ سمجھنا کہ بیٹی کے مہر میں والدین کا بھی حق ہے جائز نہیں کیونکہ مہر خالصتاً لڑکی کا ہی حق ہے اس میں والدین کا کوئی حق نہیں ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے کچھ دینے پر راضی ہو تو اور بات ہے مرتب)(واللہ اعلم)(شیخ عبدالرحمان سعدی) کیا نصرانی عورت سے شادی کرنے پر اسے مہر دیناہوگا؟ سوال۔میں ایک عیسائی لڑکی ہوں اور مسلمان نوجوان سے شادی کرنا چاہتی ہوں میں کنواری تو نہیں کہ جس کا علم اس نوجوان کو بھی ہے تو کیا اس حالت میں مجھے مہرلینے کاحق حاصل ہے؟ جواب۔مہر کے موضوع میں داخل ہونے سے قبل شادی کے حکم کے بارے میں جاننا ضروری ہے کہ آیا مسلمان شخص کے لیے کسی غیر مسلم شخص سے شادی کرنا جائز ہے یا نہیں؟تو مسلمان شخص کے لیے اہل کتاب کی عفیف اورپاکباز عورت سے شادی کرنا جائز ہے شادی کے وقت اس سے د ریافت کیا جائے گا کہ کیا وہ زنا،فسق وفجور اور فحاشی ترک کرچکی ہے کہ نہیں۔اگر تو وہ پاکدامن ہوتو مسلمان کا اس سے نکاح کرنا جائز ہے اور اس حالت میں عورت کو اس کا مہر بھی ملے گا۔ ہم آپ کو اس مشکل کے حل کے لیےاسلام قبول کرنے کی نصیحت کرتے ہیں اس لیے کہ اسلام گزشتہ تمام گناہوں اور معاصی کی آلائشوں کو ختم کرکے رکھ دیتاہے۔آپ اسلام قبول کرکے اپنے آپ کو آگ سے بچا لیں گی اوردنیا وآخرت کی سعادت بھی حاصل کرلیں گی اور پھر اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کا اس سے شادی کرنے میں [1] ۔[النساء۔4]