کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 248
ہوتو بھی تم اس میں سے کچھ نہ لو۔کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناہ ہوتے ہوئے بھی لے لوگے تم اسے کیسے لو گے حالانکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے(یعنی مباشرت کرچکے)ہو اور ان عورتوں نے تم سے مضبوط عہدوپیمان لے رکھا ہے۔"[1] حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: مراد یہ ہے کہ جب تم کسی بیوی کو چھوڑنا چاہو اور اس کے بدلے میں کسی اور عورت سے شادی کرنا چاہوتو پہلی کو دیئے ہوئے مہر میں سے کچھ بھی واپس نہ لو خواہ وہ بہت بڑاخزانہ ہی کیوں نہ ہو مہرتو اس ٹکڑے کے بدلے میں ہے(یعنی مہر ہم بستری کے بدلے میں ہے اور وہ تم کرچکے ہو)۔ حدیث میں ہے کہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان پر زردرنگ کے نشان تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے مہر کتنا دیا ہے؟انہوں نے جواب دیا،ایک کھجور کی گھٹلی کے برابر سونا دیاہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ولیمہ کرو خواہ ایک بکری کے ساتھ ہی۔"[2] یادرہے کہ مہر صرف لڑکی کا حق ہے اس کے والد یا کسی اور کے لیے اس میں سے کچھ لینا جائز نہیں لیکن اگر لڑکی خود ہی راضی خوش کچھ دے دے تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔ابو صالح کہتے ہیں کہ مرد جب اپنی لڑکی کی شادی کرتا تو اس کا مہر خود لے لیتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے روکتے ہوئے یہ آیت نازل فرمادی: "اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی اداکرو۔"[3] اس طرح اگر بیوی خاوند کو اپنے مہر سے کچھ معاف کرتے ہوئے دیتی ہے توخاوند اسے لے سکتاہے اور وہ اس کے لیے حلال ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "اور عورتوں کو ان کے مہرراضی خوشی دے دو۔ہاں اگر وہ خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے [1] ۔[النساء۔20۔21] [2] ۔[بخاری (5167) کتاب النکاح ۔باب الولیمۃ ولو یشاۃ مسلم(1427) کتاب النکاح باب الصداق وجواز کونہ تعلیم قرآن وخاتم حدید ابو داود(2109)كتاب النكاح : باب قلة المهر ، ترمذى (1094) كتاب النكاح : باب ما جائ فى الوليمة ، ابن ماجة( كتاب النكاح: باب الوليمة ، نسائى (6/119) كتاب النكاح ن مؤطا ( 2/545] [3] ۔[تفسیر ابن کثیر]