کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 246
"جن سے تم فائدہ اٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کیا ہوا مہراداکردو اورمہر مقرر ہوجانے کے بعد تم آپس کی رضا مندی سے جو طے کرلو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں بلا شبہ اللہ تعالیٰ علم وحکمت والا ہے۔"[1] اس آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: "اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم ان سے نفع حاصل کرتے ہو اس کے بدلے میں انہیں مہر ادا کرو۔جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح ارشاد ہے کہ"اور تم اسے(یعنی مہر کوطلاق دیتے وقت)کیسے لوگے حالانکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور ان عورتوں سے تم نے مضبوط اور پختہ عہد وپیمان لے رکھے ہیں۔"اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا ہے کہ"اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوش دے دو۔"اسی طرح یہ بھی فرمایا کہ"اور جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ بھی واپس لینا تمہارے لیے حلال نہیں۔"[2] حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ: "جس عورت نے ا پنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیااس کا نکاح باطل ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے۔(پھر اس ممنوع نکاح کے بعد)اگر مرد اس عورت کے ساتھ ہم بستری کرلے تواس پر مہر کی ادائیگی واجب ہے کہ جس کے بدلے اس نے عورت کی شرمگاہ کو چھوا۔اگر اولیاء کا آپس میں اختلاف ہوجائے تو جس کاکوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حکمران ہے۔"[3] مندرجہ بالاسطور سے معلوم ہواکہ مرد عورت کو مہر ادا کرے گا عورت اپنے خاوند کومہر اداد نہیں کرے گی۔شیخ عبداللہ بن قعود کہتے ہیں کہ: "مہر لینا بیوی کا حق ہے اسے مقرر کرنا واجب اورضروری ہے۔بیوی اور اس کے گھر والوں پر کوئی چیز دینا واجب نہیں لیکن وہ(اپنی خوشی سے)کچھ دینا چاہیں تو ان کی مرضی۔" اس بنا پر یہ جائز نہیں کہ آپ بیتے کا مہر لے کر بیٹی کا مہر ادا کریں۔ ہماری آپ سے گزارش ہے کہ جب آ پ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کریں گے تو وہ آپ کی بچی کے لیے اس [1] ۔[النساء۔24] [2] ۔[تفسیر ابن کثیر(1/475)] [3] ۔[صحیح۔صحیح ابو داود(1835) کتاب النکاح باب فی الولی ابو داود(2083) احمد(6/47) ترمذی(1102) کتاب النکاح باب ما جاء لا نکاح الابولی ابن ماجہ(1879) کتاب النکاح:باب لا نکاح الا بولی ابن المحاردود(700) دارمی(3/7) دارقطنی(3/221) حاکم(2/168) بیہقی (7/105) ابو یعلیٰ(8/147)]