کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 245
عرض کیا کہ نہیں اللہ کی قسم!اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سےفرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو ممکن ہے تمھیں کوئی چیز مل جائے۔وہ گئے اور واپس آگئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم!میں نے کچھ نہیں پایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تلاش کرو اگر لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ۔وہ گئے اور واپس آگئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم!اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!میرے پاس لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے البتہ میرے پاس یہ تہبند ہے۔انہیں(یعنی اس عورت کو)اس میں آدھا دے دیجئے۔راوی نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہبند کا کیا کرے گی۔اگر تم اسے پہنو گے تو ان کے لیے اس میں سے کچھ نہیں بچے گا اور اگر وہ پہن لے گی تو تمہارے لیے کچھ نہیں رہے گا۔اس کے بعد وہ صحابی بیٹھ گئے۔کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب وہ کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ وہ واپس جارہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا۔جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمھیں قرآن مجید کتنا یاد ہے؟انہوں نے کہا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں انہوں نے گن کر بتائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم انہیں بغیر دیکھے پڑھ سکتے ہو؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،پھر جاؤ میں نے ان سورتوں کے بدلے جو تمھیں یاد ہیں انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔"[1] اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر مہر کے اس مرد سے شادی پر رضا مند نہیں ہوئے اور مہر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے کچھ بھی نہیں پوچھا بلکہ اس میں یہ بھی ہے کہ عورت کو کچھ نہ کچھ مہر لازمی ادا کیا جائے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر جو فوقیت اور سربراہی عطا فرمائی ہے اس کامفہوم بھی یہی ہے کہ مرد ہی عورت کو کچھ نہ کچھ ادا کرے گا کیونکہ وہ عورت کا ذمہ دار ہے اور عورت کے پاس کمزور وناتواں ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: "مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔"[2] پھر یہ بھی ہے کہ عورت کا یہ حق ہے کہ وہ مرد سے مہرحاصل کرے کیونکہ مرد اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور یہ مہر اس کے بدلے میں ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [1] ۔[بخاری (5087۔5130) کتاب النکاح باب تزویج المعسر،مسلم(1425) احمد(5/330)ابو داود(2111)ترمذی(1114)نسائى( 6/113) ابن ماجه ( 1889) عبدالرزاق (7592)حميدي( 928) ابن الجارود (716) ابن حبان( 4093) طحاوى ( 3/16) بيهقى (7/144)×] [2] ۔[النساء۔34]