کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 238
کرادے اور اس پر شرعی حد(یعنی قتل)جاری کرے،کیونکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے: ﴿مَنْ بدَّل دينهُ فاقتلوهُ﴾ "جو اپنا دین بدلے اسے قتل کردو۔"[1] یہ عورت اگر نماز کو اس کے وقت سے موخر کرتی ہے مثلاً عصر کو غروب آفتاب تک یا پھر فجر طلوع آفتاب تک کیونکہ نماز کو اس کے وقت سے بلاعذر موخر کرنا اسے ترک کرنا ہی ہے۔[2] اس بنا پرآپ کے لیے اس نوجوان سے شادی کرنا حلال نہیں خواہ وہ کتنا بھی بااخلاق کیوں نہ ہواور آ پ یہ بتائیں کہ نماز نہ پڑھنے اور سودی کاروبار کرنے کے بعد کون سی اچھائی رہ جاتی ہے؟اور جب وہ اس سے توبہ نہ کرے اور اس پر اصلاح واستقامت کی علامات ظاہر نہ ہوں تو آپ منگنی ختم کردیں اور اگر آپ دونوں کا عقد نکاح ہوچکاہے تو پھر آپ اسے بتادیں کہ اس کے بے نماز ہونے کی وجہ سے وہ کافر ہے اور مسلمان عورت کافر کے لیے حلال نہیں اس لیے یہ عقد نکاح صحیح نہیں۔اگرتو وہ توبہ کرلے اور نماز کی پابندی کرنے لگے تو پھر وہ عقد نکاح کی تجدید کرے کیونکہ پہلا نکاح صحیح نہیں تھا۔ آپ اس کی باتوں اور وعدوں پر نہ رہیں اور کسی دھوکے میں نہ آئیں کیونکہ جو شخص منگنی اور عقد کی مدت کے دوران وفاداری نہیں کرتا وہ اس کے بعد کیا وفاداری کرے گا۔ آپ کا یہ کہناکہ آپ اسے چھوڑ نہیں سکتیں یہ شیطان کی ملمع سازی اور دھوکہ ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ اسے چھوڑنے کی طاقت رکھتی ہیں۔اس کے لیے آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس کی رغبت اورحرام میں پڑنے سے خوف کریں کیونکہ مسلمان عورت کسی بھی حال میں کافر کی بیوی نہیں بن سکتی۔ آپ کے سوال سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ آپ کے درمیان عقد نکاح ہوچکا ہے کیونکہ آ پ نے یہ کہا ہے کہ"اللہ تعالیٰ کے ہاں حلال اشیاء سے سب سے زیادہ قابل نفرت چیز طلاق ہے"اور آپ کے کلام کے آخر میں صرف منگنی کی صراحت ملتی ہے۔ ہم یہ گزارش کریں گے کہ اگر تو آپ کے درمیان عقد نکاح نہیں ہوا تو پھر وہ اپنی منگیتر کے لیے اجنبی ہوگا،اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس سے خلوت کرے یا اسے دیکھے اسی طرح منگیتر کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس سے نرم [1] ۔[صحیح ۔صحیح ابو داود۔ابوداود(4351)کتاب الحدود باب الحکم فیمن ارتد ،ابن ماجہ (2535) کتاب الحدود باب المرتد عن دینہ نسائی(4059)] [2] ۔[فتاوی الجنۃ الدائمۃ للحوث العلمۃ الافتاء(306)]