کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 232
صحیح طورپر توبہ نہ کرلے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: "اور یہ مومنوں پر حرام کردیا گیا ہے۔" لیکن اگر وہ توبہ کرلے تو اس سے نکاح کرنا صحیح ہے۔ فاجر اور زانی سے نکاح کرنے پر جو کچھ فساد مرتب ہوگا وہ کسی سے مخفی نہیں۔یہ بہت ہی مشکل ہوتا ہے کہ کسی کی حقیقت کاادراک حاصل کرلیاجائے لیکن تحقیق وتفشیش مشاورت اور اس کی حالت معلوم کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا والتجا کے ذریعے اس مشکل سے نکلا جاسکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آ پ کے لیے خیروبھلائی اختیار کرے اور آپ کی صحیح راستے کی طرف راہنمائی فرمائے۔(آمین)(شیخ محمد المنجد) اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح بھیجنا:۔ سوال۔کیا ا پنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دینا جائز ہے؟ جواب۔کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے کسی دوسرے مسلمان بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے کیونکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ﴾ "تم میں کوئی بھی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح نہ دے۔"[1](سعودی فتویٰ کمیٹی) میری منگیتر پاکدامن نہیں مگر مجھے محبوب ہے میں کیاکروں؟ سوال۔میں اپنے معاملے میں بہت پریشان ہوں۔اپنی منگیتر کو بہت چاہتاہوں لیکن منگنی سے پہلے وہ ایک یورپی لڑکی کی طرح زندگی گزارتی رہی بے ہودہ قسم کا لباس پہننا سگریٹ نوشی،نوجوانوں کےساتھ اٹھنا بیٹھنا ان کے [1] ۔[بخاری (5142) کتاب النکاح باب لا یخطب علی خطبۃ اخیۃ حتی ینکح اوید ع مسلم(1412) کتاب النکاح باب تحریم الخطبۃ علی خطبۃ اخیہ حتیٰ یاذن او یترک ترمذی(1292)كتاب البيوع: باب ما جاء فى النهى عن البيع على بيع أخيه، ابن ماجه،(1868) كتاب النكاح: باب لا يخب فالرجل على خطبة أخيه ، أحمد(2/42) نسائى(6/73)دارمى (2/135) ابن أبى شيبة( 4/403) طحاوى فى شرح المعانى ( 3/3) ابن حبان (9/345)]