کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 229
حالت میں بات کی جاسکتی ہے۔ اس جیسی حالت میں اس کے لیے حل یہی ہے کہ وہ اس کے ساتھ عقد نکاح کرلے اس لیے کہ جو بھی عقد نکاح کرلیتا ہے اس کے لیے عورت کی ہرچیز حلال ہوجاتی ہے کیونکہ نکاح سے وہ اس کی بیوی بن جائے گی خواہ رخصتی نہ بھی ہوئی ہو۔اور اگر وہ طاقت نہیں رکھتا تو اسے صبر کرنا چاہیے اور بکثرت روزے رکھے جیسا کہ اوپر حدیث میں مذکور ہے۔(شیخ محمد المنجد) ہم بستری کے علاوہ کسی اور طریقے سے منگیتر سے لذت اٹھانا:۔ سوال۔شادی سے قبل جب میری اپنے خاوند سے منگنی ہوئی تھی تو منگنی کے دوران ہماری عادت تھی کہ ہم ایک دوسرے سے ملتے اور ایک دوسرے کابوسہ بھی لیتے اور کچھ دوسرے افعال بھی کرتے لیکن ہم نے ہم بستری نہیں کی،پھر ہم نے شادی کرلی،شادی کے بعد میں نے سورہ نور میں پڑھا کہ زانی ایک دوسرے سے شادی نہیں کرسکتے تو اب میری شادی کا حکم کیا ہے جبکہ شادی کوآٹھ برس گزر چکے ہیں؟ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں پاکستان میں بعض لوگ شادی کے کچھ عرصہ بعد بغیر کسی شرعی سبب کے تجدید نکاح کرتے ہیں تو کیا جب عقد نکاح صحیح ہوچکا ہوتو نکاح کی تجدید جائز ہے؟ جواب۔صحیح عقد نکاح کی صرف وہم شک کی بنا پر تجدید کرنا جائز نہیں،لیکن سوال کے شروع میں جو ذ کر ہے کہ منگنی کے عرصہ میں منگیتر ایک دوسرے کا بوسہ لینا،تو اس کے متعلق یہ ہے کہ اگر یہ عمل عقد نکاح سے قبل ہواہے کہ تو یہ حرام ہے اور اسی طرح منگیتر کے ہاتھ سے مشت زنی یا خوش طبعی وغیرہ کرنا بھی حرام ہے اور اگر یہ عقد نکاح کے بعد ہوا ہے کہ تو پھر بوسہ لینے میں کوئی حرج نہیں۔ رہا مسئلہ زانی کا ایک دوسرے سے شادی کرناتو اس کے متعلق یہ ہے کہ دونوں کے زنا سے توبہ کرنے اور لڑکی کی عدت پوری ہونے کے بعد شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: "خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لیے ہیں۔"[1] زنا سے توبہ کرنا توایک حتمی چیزہے کہ وہ دونوں اس سے توبہ کریں لیکن عقد زواج تو صرف عدت پوری ہونے کے بعد ہی ہوسکتا ہے تاکہ اس کےرحم کی زنا کے حمل سے برائت ثابت ہوجائے اگر یہ یقین ہوجائے کہ حمل نہیں ہے تو پھر ایک دوسرے سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ [1] ۔[النور ۔26]