کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 224
حالت سدھارنے اور اس کی سعادت مندی کا سب ہوگی اور پھر ہم بھی اسے قبول کرلیں گے اور وہ ہمیں بہت اچھی لگنے لگے گی۔اب آپ ہی بتائیں کہ اس پریشان کن حالت میں آ پ کی کیارائے ہے؟ جواب۔یہ اور اس طرح کی دوسری مشکلات دعوت وتبلیغ اور اصلاحی کام کرنے والوں کی اس بات کی دعوت دیتی ہیں کہ ہم اپنے بچوں اور بچیوں کا انٹر نیٹ استعمال کرنے میں غفلت سے کام لینا چھوڑ دیں بلکہ خبردار رہیں کہ مرد وعورت نیٹ چیٹ کے ذریعے کیاکرتے ہیں اور انہیں اس سے بچائیں کیونکہ اس میں فتنے میں مبتلا ہونے کا ثبوت ملتا ہے اور یہ ثابت ہوچکاہے اور پھر اس کے بعد ملاقلاتیں اور ٹیلی فون کالیں وغیرہ بھی اور اس کے بعد کیا نہیں ہوتا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے بیتے نے اس لڑکی سے تعلق قائم کرنے کی غلطی کی ہے جوکہ اس کے لیے حلال نہیں تھا اورپھر اس نے آپ کے ساتھ جھوٹ بول کر بھی غلطی کی اور اس کی یہ بھی غلطی ہے کہ اس نے آپ کو چھوڑ کر اپنی پھوپھو کو رازدان بنایا۔لیکن ہم آپ کے ساتھ اس بات پر متفق نہیں کہ آپ نے اس لڑکی کے ساتھ شادی سے انکار کی جو بنیاد بنائی ہے۔اوربالخصوص جب آپ نے اپنے بیٹے کے تعلقات کی شدت کو بھی محسوس کیا ہے۔اس کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں: 1۔ ایسا کام کرنے والی ہر لڑکی پر یہ حکم لگانا ممکن نہیں کہ وہ بری تربیت اور برے اخلاق کی مالکہ ہے ہوسکتا ہے کہ اس کا یہ عمل کسی غلطی اور سیدھے راستے سے پھسلنے کی وجہ سے ہوجیسا کہ آپ کے بیتے کا حال ہے۔ 2۔ اب جو کچھ آپ کے بیٹے کا حال یعنی پڑھائی وغیرہ سے دل اچاٹ ہورہا ہے ہوسکتا ہے یہ اس لڑکی سے دلی محبت کی وجہ سے ہو وہ اس لڑکی سے دلی طور پر محبت کرنے لگا ہے۔تو اس طرح کے حالات میں اس کا علاج یہی ہے کہ جس سے وہ محبت کرتاہے اسی سےشادی کردی جائے اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ﴿لم يُرَ للمتحابَّين مثلُ النكاح﴾ "ہم نے دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح جیسی(بہترین اور)کوئی چیز نہیں دیکھی۔"[1] 3۔ یہ بات کہ آپ کا بیٹا اس کی اخلاقیات کے بارے میں زیادہ علم نہیں رکھتا اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اس کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور ہمسایوں اور میل جول کے لوگوں سے دریافت کرکے ثبوت [1] ۔[صحیح السلسلۃ الصحیحۃ (264) ھدایۃ الرواۃ(3029)(247/3) صحیح الجامع الصغیر (5200) ابن ماجہ(1847) کتاب النکاح باب جاء فی فضل النکاح مستدرک حاکم(2/160) کتاب النکاح باب لم یر المتحابین مثل التزویج بیہقی فی السنن الکبری(7/78) کتاب النکاح باب الرغبۃ فی النکاح حافظ بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔(الزوائد(2/65)