کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 220
تاہم بعض لوگ منگیتر کا لفظ ایسے شخص کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں جس کے ساتھ عقد نکاح تو ہوچکاہو لیکن رخصتی نہ ہو۔اگر تو آپ کی بھی یہی حالت ہے تو پھر آپ دونوں میاں بیوی ہیں اور آپ کےخاوند کے لیے آپ سے مصافحہ کرنا خلوت کرنا اور آ پ کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے لیکن اگر ابھی آپ دونوں کا عقد نکاح نہیں ہوا اور بات صرف منگنی تک ہی محدود ہے تو پھر آپ کی ملاقاتیں حرام ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ عورت کے لائق اور اس کی طبیعت کے مناسب کا م تو یہی ہے کہ وہ گھر میں ٹھہرے اور گھریلو ضروریات سے نبردآزما ہو۔خاوند اور جب اللہ تعالیٰ اسے اولاد سے نوازے تو وہ اس کی ضروریات پوری کرے اور ان کا خیال رکھے یہ کام بہت عظیم ہے کو ئی آسان اور معمولی کام نہیں۔ رہا مسئلہ گھر سے نکل کر عورت کی ملازمت اور کام کرنے کا تو اصل بات یہی ہے کہ یہ اس کی طبعیت کے مناسب نہیں اور نہ ہی اسے زیب دیتا ہے لیکن اگر اسے ایسا کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو پھر اسے ایسا کام کرنے کی اجازت ہے جو اس کی طبعیت کے مناسب اورحال کے لائق ہو۔مگر اس میں میں بھی یہ شرط ہے کہ شریعت اسلامیہ کی پابندی کی جائے یعنی باپردہ رہے آنکھوں کی حفاظت کرے اور غیر مردوں سے میل جول نہ رکھے وغیرہ۔ شیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: یہ بات تو عام معلوم ہے کہ عورت کا ملازمت کرنے کے لیے نکلنا مردوں کے ساتھ اختلاط میل جول اور خلوت کا باعث بنے گا جو کہ بہت ہی خطرناک معاملہ ہے ا س کے نتائج بھی بہت خطرناک اس کا پھل بہت ہی کڑوا اور انجام بہت ہی برا ہوگا اور پھر یہ تو شرعی نصوص کے بھی برعکس ہے کیونکہ شریعت میں عورت کو گھر میں ہی رہنے اور گھریلو کام کاج کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس ذریعے سے وہ مردوں کے ساتھ اختلاط اور خلوت سے بھی بچی رہے گی۔اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اور اسے دیکھنے کی حرمت کے متعلق شریعت میں صریح اور صحیح دلائل موجود ہیں جن میں چند ایک کا ذکر یہ ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: "اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکواۃ دیتی رہو،اللہ تعالیٰ اوس اس کے رسول کی اطاعت کرتی رہو،اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی پاک کی گھر والیو!تم سے وہ(ہرقسم کی)گندگی کو دور کردے اور تمھیں خوب پاک کردے۔اورتمہارے گھروں میں جو آیتیں اور رسول کی جو احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو یقیناً اللہ تعالیٰ مہربانی کرنے والا خبردار ہے۔"[1] [1] ۔[الاحزاب۔33]