کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 217
"کوئی بھی مرد کسی عورت سے خلوت نہ کرے کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہوگا۔"[1] اسی طرح منگیتر کی طرف لذت اور شہوت کی نظر سے نہ دیکھے۔امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے ایک روایت میں کہا ہے اس کا چہرہ دیکھے لیکن اس میں بھی لذت کی نظر نہیں ہو نی چاہیے۔ مرد کے لیے بار بار نظر اٹھا کر دیکھنا جائز ہے تاکہ اس کے محاسن میں غور کر سکے کیونکہ اس کے بغیر مقصد حاصل نہیں ہو تا۔ مزید برآں منگنی کرنے والے مرد کے لیے منگیتر کو اس کی اجازت کے بغیر بھی دیکھنا جائز ہے احادیث صحیحہ اسی پر دلالت کرتی ہیں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جمہورعلمائے کرام کا کہنا ہے کہ منگیتر کو دیکھنا چاہے تو اسے کیااجازت کے بغیر دیکھ سکتا ہے۔[2] علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی مؤقف کی تائید کی ہے۔[3] فائدہ:۔ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ ایک دوسری جگہ رقمطرازہیں کہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے شادی کرنا چاہی تو ایک عورت کو اسے دیکھنے کے لیے بھیجا اور اسے کہا اس کے اگلے دانت سونگنا اور اس کی ایڑیوں کے اوپر والے حصے کو دیکھنا اس حدیث کو امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح کہنے کے بعد کہا ہے کہ یہ مسلم کی شرط پر ہے اور امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کی موافقت کی ہے۔[4] مغنی المحتاج میں ہے۔ اس حدیث سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عورت کو بھجنے سے وہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جو خود دیکھنے سے حاصل نہیں ہو سکتے۔جو خود دیکھنے سے حاصل نہیں ہوسکتے۔[5] ………(شیخ محمد المنجد)……… [1] ۔[صحیح : صحیح الجامع الصغیر 2546۔ترمذی 2165۔کتاب الفتن۔باب ماجاء فی لزوم الجماعۃ 1171۔کتاب الرضاع باب ماجاء کراھیہ الدخول المغیات المشکاۃ 3118السلسلۃ الصحیحہ 430] [2] ۔[فتح الباری 157/9] [3] ۔[السلسلہ الصحیحہ156/1] [4] ۔[السلسلہ الصحیحۃ 157/1۔مستدرک حاکم 166/2۔بیہقی 87/7۔ مجمع الزوائد 507/4] [5] ۔[معنی المحتاج: 128/3]