کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 213
منگیترکو دیکھنے کی حد:۔ سوال۔میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھی جس میں ہے کہ شادی کرنے کی نیت سے لڑکی کو دیکھنا جائز ہے میرا سوال یہ ہے کہ منگیتر کو دیکھنے کی کیا حد ہے کیا مرد کے لیے اس کے بال یا مکمل سر دیکھنا جائز ہے؟:۔ جواب۔شریعت اسلامیہ نے اجنبی عورت کو دیکھنے سے منع کیا ہے تاکہ نفس کی طہارت اور عزت برقرار رہے لیکن بعض حالات میں سخت ضرورت کے تحت شریعت نے اجنبی عورت کو دیکھنے کی اجازت دی ہے جس میں منگنی کرنے والے مرد کا اپنی منگیتر کو دیکھنا بھی شامل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ہی مرد اور عورت کی زندگی کا ایک نہایت اہم فیصلہ شادی کی صورت میں ہو تا ہے منگیتر کو دیکھنے کے دلائل ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔ 1۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ﴿عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ رضي اللّٰه عنهما قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:(إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ). قَالَ:فَخَطَبْتُ جَارِيَةً فَكُنْتُ أَتَخَبَّأُ لَهَا حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا مَا دَعَانِي إِلَى نِكَاحِهَا وَتَزَوُّجِهَا فَتَزَوَّجْتُهَا﴾ "تم میں سے جب کوئی کسی عورت کو پیغام نکاح دے اگر ممکن ہو تو اس سے وہ دیکھ لے جو اس کے لیے نکاح کا باعث ہو۔پھر میں نے ایک لڑکی کو پیغام نکاح بھیجا میں اسے چھپ کر دیکھا کرتا تھا حتی کہ میں نے اس کے ان اعضاء کو دیکھ ہی لیا جو اس سے نکاح کے لیے باعث رغبت تھے تو میں نے اس سے نکاح کر لیا۔"[1] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ: ﴿عن أبي هريرة قال:" كنت عند النبي صلى اللّٰهُ عليه وسلم فأتاه رجل فأخبره أنه تزوج امرأة من الأنصار،فقال له رسول اللّٰهُ صلى اللّٰهُ عليه وسلم:(أنظرت إليها؟)قال:لا،قال:(فاذهب فانظر إليها فإن في أعين الأنصار شيئاً)رواه مسلم رقم 1424 والدار قطني 3/253(34)﴾ "میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ کویہ خبر دی کہ اس نے ایک انصاری عورت سے شادی(کاارداہ)کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تونے اسے دیکھا ہے؟اس نے عرض کیا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجاؤ اور اسے دیکھو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کوئی(بیماری) [1] ۔[حسن صحیح ابو داؤد 1832کتاب النکاح باب فی الرجال بنظر الی المراۃ احمد 334/3ابو داؤد 2082۔شرح معانی الاثار 14/3۔حاکم 165/2۔معروفہ السنن والاثار للبیہقی 224/5۔کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح ]