کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 200
6۔عورت مکمل پردہ اور شرم و حیاء کی پیکربن کر رہے یا پھر دروازے اور پردے کے پیچھے سے مخاطب ہو۔بہتر اور احسن تویہ ہے کہ یہ بات ٹیلی فون کے ذریعے ہو۔البتہ یہ بھی عمدہ طریقہ ہے۔کہ خط لکھ کر یا پھر ای میل کے ذریعے پیغام پہنچا دیا جائے۔ 7۔یہ کلام ضرورت سے زیادہ نہ ہو بلکہ حسب ضرورت ہی رہے۔ شیخ صالح فوزان نے لڑکوں اور لڑکیوں کی ٹیلی فون پر ایک دوسرے سے بات چیت کے حکم کے متعلق کہا:نوجوانوں کی لڑکیوں سے بات چیت کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں فتنہ ہے لیکن اگر لڑکی اپنے منگیتر سے بات چیت کرے اور کلام بھی صرف منگنی کی مصلحت کو سمجھنے سمجھانے کی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں لیکن افضل و بہتر اور احواط تو یہی ہے کہ لڑکی کے ولی سے بات کی جائے۔[1] اور آپ نے تو ابھی اس لڑکی سے منگنی بھی نہیں کی اس لیے آپ پر ضروری ہے کہ آپ فتنہ میں مبتلا کر دینے والے اسباب سے بچ کر رہیں اور انتہائی احتیاط سے کام لیں اور اپنے مقصد کو ہراس طریقے سے حل کریں جو اس لڑکی کے قریب جانے کے علاوہ ہو۔اس مسئلے میں مندرجہ ذیل دو آیتیں بطور دلیل پیش کی کی جاسکتی ہیں۔ 1۔"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویو!تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہواگر تم پرہیز گاری اختیار کرو تونرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی براخیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو۔"[2] 2۔"اور جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کروتو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔یہ تمھارے اور ان کے دلوں کے لیے کامل پاکیزگی وطہارت ہے۔"[3] اس کے بعد میں چاہتا ہوں کہ آپ کو یہ یاد دلاتا چلوں کہ بیوی اختیار کرتے ہوئے مسلمان کا معیار وہ ہونا چاہیے جس کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ اور رغبت دلائی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہےکہ: ﴿فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ﴾ "تم دین والی لڑکی اختیارکرو تمھارے ہاتھ خاک میں ملیں۔"[4] [1] ۔[المنتقی من فتاوی الشیخ صالح الفوزان 163/3۔164] [2] ۔[الاحزاب:32] [3] ۔[الاحزاب :53] [4] ۔[بخاری 5090۔کتاب النکاح : باب الاکفاء فی الدین مسلم 1466کتاب الرضاع :باب استحباب نکاح ذات الدین احمد 428/2۔ابو داؤد 2047۔کتاب النکاح باب مایوئمر به من تزویج ذات الدین ابن ماجة 1858۔کتاب النکاح : باب تزویج ذوات الدین ابو یعلی 6578۔الحلیہ لا بی نعیم 383/8دارقطنی 302/3]